Zakat Nikalne Ka Tarika

Zakat Nikalne Ka Tarika

If you want to learn the zakat nikalne ka tarika in an easy and correct way, this guide will help you step by step. Zakat is one of the five pillars of Islam, and every sane, adult Muslim who owns wealth above the nisab must pay 2.5% of it every year. In this article, you will learn how to calculate your zakat correctly, who must pay it, and how to avoid common mistakes — all explained in simple language.

زکوٰۃ کیا ہے؟

زکوٰۃ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے۔ یہ ہر عاقل، بالغ اور صاحبِ نصاب مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اپنے مال کا ایک مقررہ حصہ ہر سال غریبوں اور مستحقین میں تقسیم کرے۔ زکوٰۃ کا لفظی مطلب “پاکیزگی” اور “بڑھوتری” ہے، یعنی زکوٰۃ ادا کرنے سے مال پاک ہو جاتا ہے اور اس میں برکت پیدا ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر نماز کے ساتھ زکوٰۃ کا حکم دیا ہے، جیسے سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 43 میں ارشاد ہوتا ہے کہ نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔

زکوٰۃ کس پر فرض ہے؟

زکوٰۃ ادا کرنا ہر اس مسلمان پر فرض ہے جو درج ذیل شرائط پر پورا اترتا ہو:

  • مسلمان ہونا – زکوٰۃ صرف مسلمانوں پر فرض ہے۔
  • عاقل اور بالغ ہونا – نابالغ بچے اور پاگل شخص پر زکوٰۃ فرض نہیں۔
  • آزاد ہونا – غلام پر زکوٰۃ فرض نہیں تھی (اب یہ مسئلہ عملاً موجود نہیں)۔
  • مالکِ نصاب ہونا – یعنی اس کے پاس نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ مال ہو۔
  • مال پر ایک سال (حول) گزرنا – یعنی نصاب کے برابر مال پورا ایک قمری سال تک اس کی ملکیت میں رہے۔
  • مال بڑھنے والا ہو – یعنی وہ مال تجارت، سونا، چاندی، نقدی یا کاروباری سرمائے کی شکل میں ہو، ذاتی استعمال کی چیزوں (گھر، گاڑی، کپڑے) پر زکوٰۃ نہیں۔

نصاب زکوٰۃ کیا ہے؟

نصاب وہ کم از کم مقدار مال ہے جس پر پہنچنے کے بعد زکوٰۃ فرض ہو جاتی ہے۔ نصاب کا تعین سونے اور چاندی کے وزن سے کیا جاتا ہے:

  • سونے کا نصاب: 87.48 گرام (تقریباً ساڑھے سات تولہ سونا)
  • چاندی کا نصاب: 612.36 گرام (تقریباً ساڑھے باون تولہ چاندی)

نقدی، بینک بیلنس اور کاروباری مال کی زکوٰۃ کے لیے عام طور پر چاندی کا نصاب استعمال کیا جاتا ہے، کیونکہ اس سے زیادہ لوگ زکوٰۃ کے دائرے میں آتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ غریبوں کی مدد ہو سکتی ہے۔ چونکہ سونے اور چاندی کی قیمتیں روزانہ بدلتی رہتی ہیں، اس لیے زکوٰۃ نکالنے سے پہلے موجودہ مارکیٹ ریٹ ضرور معلوم کر لیں۔

زکوٰۃ نکالنے کا طریقہ – مرحلہ وار

زکوٰۃ نکالنا ایک آسان عمل ہے اگر اسے صحیح ترتیب سے سمجھا جائے۔ ذیل میں مکمل طریقہ درج ہے:

مرحلہ 1: اپنے تمام زکوٰۃ والے اثاثوں کی فہرست بنائیں

سب سے پہلے اپنے پاس موجود ان تمام اشیاء کی فہرست بنائیں جن پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے:

  • نقد رقم (گھر یا بینک میں موجود)
  • سونا اور چاندی (زیورات سمیت)
  • کاروباری سامان اور مال تجارت
  • سیونگ اکاؤنٹ، سرٹیفکیٹس اور سرمایہ کاری
  • کسی کو دیا گیا قرض جو واپس ملنے کی امید ہو

مرحلہ 2: قابلِ کٹوتی واجبات نکالیں

اپنے اوپر موجود قرض اور واجب الادا رقوم کو کل مال سے منہا کریں، جیسے:

  • وہ قرض جو رواں سال ادا کرنا ہے
  • بجلی، گیس یا دیگر بلوں کی واجب الادا رقم
  • کاروباری واجبات

مرحلہ 3: خالص مالیت معلوم کریں

کل اثاثوں میں سے واجبات نکالنے کے بعد جو رقم باقی بچے، وہی آپ کی خالص زکوٰۃ کے قابل مالیت ہے۔ اگر یہ رقم نصاب (چاندی کے نصاب) کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو زکوٰۃ فرض ہو جائے گی۔

مرحلہ 4: 2.5% کے حساب سے زکوٰۃ نکالیں

نصاب پر پورا اترنے کے بعد خالص مالیت کا 2.5% (یعنی چالیسواں حصہ) بطور زکوٰۃ نکالا جاتا ہے۔ اس کا آسان فارمولا یہ ہے:

زکوٰۃ = کل خالص مالیت × 2.5 ÷ 100

مثال کے طور پر اگر کسی شخص کے پاس ایک سال بعد 2,00,000 روپے کی خالص رقم موجود ہے تو اس کی زکوٰۃ اس طرح نکلے گی:

2,00,000 × 2.5 ÷ 100 = 5,000 روپے

یعنی اس شخص کو 5,000 روپے بطور زکوٰۃ ادا کرنے ہوں گے۔

مرحلہ 5: زکوٰۃ کو مستحقین تک پہنچائیں

زکوٰۃ کی رقم نکالنے کے بعد اسے قرآن مجید میں بیان کردہ آٹھ مصارف (حق داروں) میں سے کسی ایک تک پہنچانا ضروری ہے، جن میں فقراء، مساکین، مقروض، مسافر اور دیگر شامل ہیں۔ زکوٰۃ صرف انہی مستحق افراد کو دی جا سکتی ہے جو خود صاحبِ نصاب نہ ہوں۔

سونے اور چاندی کی زکوٰۃ کیسے نکالیں؟

اگر آپ کے پاس زیورات کی شکل میں سونا یا چاندی موجود ہے تو اس کی زکوٰۃ نکالنے کا طریقہ یہ ہے:

  1. سونے یا چاندی کا کل وزن معلوم کریں (اگر ملی جلی دھات ہو تو خالص سونے/چاندی کا وزن نکالیں)۔
  2. موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق اس کی مالیت معلوم کریں۔
  3. اگر یہ نصاب کے برابر یا زیادہ ہو تو کل مالیت کا 2.5% بطور زکوٰۃ نکالیں۔

نوٹ: زیادہ تر علماء کے نزدیک استعمال میں آنے والے زیورات پر بھی زکوٰۃ واجب ہوتی ہے (احناف کے مطابق)، اس لیے سونے چاندی کے زیورات کو زکوٰۃ کے حساب سے خارج نہ کریں۔

کاروباری مال کی زکوٰۃ

تاجر حضرات کو اپنے کاروبار میں موجود درج ذیل چیزوں پر زکوٰۃ ادا کرنی ہوتی ہے:

  • دکان یا گودام میں موجود بکنے والا مال (اسٹاک)
  • نقد رقم اور بینک بیلنس
  • گاہکوں سے وصول ہونے والی رقم (قابلِ وصول قرض)

کاروباری اثاثوں کی موجودہ مارکیٹ ویلیو معلوم کر کے، اس میں سے واجب الادا قرضے منہا کر کے، باقی ماندہ رقم پر 2.5% کے حساب سے زکوٰۃ نکالی جاتی ہے۔ دکان کا فرنیچر، مشینری یا وہ چیزیں جو فروخت کے لیے نہیں بلکہ کاروبار چلانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں، ان پر زکوٰۃ نہیں ہوتی۔

زکوٰۃ نکالتے وقت عام غلطیاں

  • نصاب کا صحیح حساب نہ لگانا اور پرانی قیمتوں کی بنیاد پر زکوٰۃ نکالنا۔
  • زیورات کو زکوٰۃ کے حساب سے چھوڑ دینا۔
  • قرض کی رقم کو حساب میں شامل نہ کرنا۔
  • ہر سال ایک ہی تاریخ کو زکوٰۃ کا حساب نہ کرنا، جس سے حول مکمل ہونے میں غلطی ہو جاتی ہے۔
  • زکوٰۃ کی رقم غیر مستحق افراد کو دے دینا۔

ان غلطیوں سے بچنے کے لیے ہر سال ایک مقررہ تاریخ (مثلاً رمضان کی پہلی تاریخ) مقرر کر لیں اور اسی دن اپنے تمام اثاثوں کا حساب لگا کر زکوٰۃ نکالیں۔

زکوٰۃ کن پر خرچ کی جا سکتی ہے؟

قرآن مجید کی سورۃ التوبہ آیت نمبر 60 میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بیان کیے گئے ہیں:

  1. فقراء (غریب لوگ)
  2. مساکین (نادار لوگ)
  3. عاملینِ زکوٰۃ (زکوٰۃ جمع کرنے والے کارکن)
  4. مؤلفۃ القلوب (نئے مسلمان یا وہ لوگ جن کی دلجوئی مقصود ہو)
  5. غلاموں کی آزادی کے لیے
  6. مقروض افراد
  7. فی سبیل اللہ (اللہ کی راہ میں)
  8. مسافر (جو سفر میں تنگ دست ہو گیا ہو)

FAQs

1. What is the easiest way to calculate zakat? Add up the value of your cash, gold, silver, and business assets. Subtract any debts you owe. If the remaining amount is equal to or more than the nisab, pay 2.5% of it as zakat.

2. Is zakat obligatory on gold jewelry that I wear daily? Yes, according to the majority of Hanafi scholars, zakat is due on gold and silver jewelry even if you wear it regularly, once it reaches the nisab.

3. What is the nisab for zakat in grams? The nisab for gold is 87.48 grams, and the nisab for silver is 612.36 grams. Many scholars recommend using the silver nisab for cash and savings so that more needy people can be helped.

4. Do I need to pay zakat on money I lent to someone? Yes, if you expect the loan to be repaid, you should include it in your zakatable wealth and pay zakat on it.

5. When should I pay my zakat every year? Zakat becomes due after one full lunar year (hawl) has passed since your wealth first reached the nisab. Many people choose a fixed date, such as the start of Ramadan, to make the calculation easier each year.

6. Can zakat be given to relatives? Yes, zakat can be given to relatives who are eligible recipients (poor or needy), except for your own parents, children, spouse, and grandparents, since you are already responsible for their needs.

Conclusion

Learning the correct zakat nikalne ka tarika helps every Muslim fulfill this important duty with confidence and accuracy. By listing your assets, subtracting your debts, checking the nisab, and calculating 2.5% of your net wealth, you can easily find out how much zakat you owe. Always double-check current gold and silver prices, pay on time, and give your zakat to the right people. This simple habit purifies your wealth and brings great blessings, so try to calculate and pay your zakat correctly every year.