Many Muslims ask one simple question every year: zakat kis par farz hai aur nisab ka usool kya hai? Zakat is one of the five pillars of Islam. But it is not farz on every person. It becomes farz only when a person owns a fixed amount of wealth, called nisab, for one full lunar year. In this article, you will learn who must pay zakat, how to find your nisab, and how to count your zakat step by step. We have kept the language easy so every reader can follow it.
زکوٰۃ کیا ہے اور اسلام میں اس کا مقام
زکوٰۃ کا لفظی مطلب ہے “پاک کرنا” اور “بڑھنا”۔ جب ہم اپنے مال میں سے اللہ کا مقرر کیا ہوا حصہ نکالتے ہیں تو مال پاک ہو جاتا ہے اور اس میں برکت آتی ہے۔
زکوٰۃ اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے۔ قرآنِ پاک میں کئی جگہ نماز کے ساتھ زکوٰۃ کا حکم آیا ہے، جیسے سورۃ البقرہ کی آیت 43۔ یعنی جس طرح نماز چھوڑنا گناہ ہے، اسی طرح صاحبِ نصاب ہو کر زکوٰۃ نہ دینا بھی بڑا گناہ ہے۔ سورۃ التوبہ (آیت 34-35) میں سونا چاندی جمع کر کے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے والوں کے لیے سخت وعید آئی ہے۔
یہ بھی سمجھ لیں کہ زکوٰۃ کوئی احسان یا ٹیکس نہیں۔ یہ غریب کا حق ہے جو اللہ نے امیر کے مال میں رکھا ہے۔
Zakat Kis Par Farz Hai Aur Nisab Ka Usool: زکوٰۃ فرض ہونے کی شرائط
زکوٰۃ ہر شخص پر فرض نہیں ہوتی۔ فقہِ حنفی کے مطابق زکوٰۃ فرض ہونے کے لیے یہ شرائط ضروری ہیں:
- مسلمان ہونا: غیر مسلم پر زکوٰۃ فرض نہیں۔
- عاقل اور بالغ ہونا: جو شخص ہوش میں ہو اور بالغ ہو، اسی پر زکوٰۃ فرض ہے۔ (بچے اور مجنون کے مال کے بارے میں علماء سے الگ مسئلہ پوچھ لینا بہتر ہے۔)
- مال کا مالک ہونا: مال پر آپ کی اپنی مکمل ملکیت ہو۔
- نصاب کے برابر مال ہونا: مال اتنا ہو جو شریعت کے مقرر کردہ نصاب تک پہنچ جائے۔
- بنیادی ضرورت سے زائد ہونا: گھر، کپڑے، گھر کا سامان اور سواری جیسی ضروری چیزیں گنتی میں نہیں آتیں۔
- قرض سے فارغ ہونا: قرض نکالنے کے بعد بھی مال نصاب کے برابر بچے۔
- سال گزرنا: نصاب کے برابر مال پر پورا ایک قمری (چاند کے حساب سے) سال گزر جائے۔ اسے “حولان حول” کہتے ہیں۔
اگر ان میں سے کوئی شرط پوری نہ ہو تو زکوٰۃ فرض نہیں ہوتی۔
نصاب کیا ہے؟ زکوٰۃ کا نصاب آسان لفظوں میں
نصاب مال کی وہ کم از کم مقدار ہے جس کے بعد آدمی “صاحبِ نصاب” کہلاتا ہے اور اس پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے۔ جس کے پاس اس سے کم مال ہو، اسے زکوٰۃ دینی نہیں بلکہ زکوٰۃ لینے کا حق ہو سکتا ہے۔
نصاب کا پیمانہ سونا اور چاندی ہیں:
| مال | نصاب (تولہ) | نصاب (گرام تقریباً) |
|---|---|---|
| سونا | ساڑھے سات (7.5) تولہ | 87.48 گرام |
| چاندی | ساڑھے باون (52.5) تولہ | 612.36 گرام |
یاد رکھیں، ایک تولہ تقریباً 11.664 گرام کا ہوتا ہے۔
نوٹ: اہلِ حدیث علماء عموماً سونے کا نصاب 85 گرام اور چاندی کا 595 گرام بتاتے ہیں۔ یہ فرق احتیاط اور وزن کے حساب کا ہے۔ پاکستان میں زیادہ تر لوگ حنفی نصاب پر عمل کرتے ہیں۔
سونے کا نصاب بمقابلہ چاندی کا نصاب: کون سا لیں؟
یہ سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال ہے۔ آج سونا چاندی سے بہت مہنگا ہے، اس لیے دونوں کے نصاب کی رقم میں بڑا فرق ہے۔
- اگر آپ کے پاس صرف سونا ہے: تو نصاب ساڑھے سات تولہ سونا ہے۔
- اگر صرف چاندی ہے: تو نصاب ساڑھے باون تولہ چاندی ہے۔
- اگر نقد رقم، مالِ تجارت یا ملا جلا مال ہے: تو علماء کے مطابق احتیاط اور غریبوں کے فائدے کی وجہ سے چاندی کا نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت) لیا جاتا ہے۔ جنگ اخبار کے “آپ کے مسائل” میں بھی علماء نے رقم اور مالِ تجارت کے لیے یہی معیار بتایا ہے۔
مطلب یہ کہ اگر آپ کے پاس نقد رقم، بینک بیلنس اور سامانِ تجارت ملا کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ مال ہو (اور قرض نکالنے کے بعد بھی ہو) تو آپ صاحبِ نصاب ہیں۔
ضروری بات: سونے اور چاندی کا ریٹ روز بدلتا ہے۔ اس لیے زکوٰۃ نکالنے کے دن مارکیٹ کا تازہ ریٹ دیکھ کر نصاب کی رقم نکالیں۔
زکوٰۃ کتنی دینی ہوتی ہے؟
زکوٰۃ کی شرح ڈھائی فیصد (2.5%) ہے، یعنی ہر 100 روپے میں سے 2.50 روپے، یا ہر 40 روپے میں سے 1 روپیہ۔ دارالعلوم دیوبند کے فتوے میں بھی یہی شرح بتائی گئی ہے۔
یہ شرح سونا، چاندی، نقد رقم اور مالِ تجارت پر ہے۔ زمین کی پیداوار اور جانوروں کا حساب الگ ہے، جو آگے بتایا گیا ہے۔
کن کن چیزوں پر زکوٰۃ فرض ہے؟
عام طور پر زکوٰۃ ان مالوں پر فرض ہوتی ہے جو بڑھنے والے ہوں یا بڑھ سکتے ہوں:
1. سونا اور چاندی
چاہے زیور کی شکل میں ہو، سکے ہوں یا ڈلی۔ فقہِ حنفی میں استعمال کے زیور پر بھی زکوٰۃ فرض ہے۔ (بعض دوسرے علماء کی رائے مختلف ہے، اس لیے اپنے مسلک کے عالم سے پوچھ لیں۔)
2. نقد رقم
جیب میں رکھی رقم، بینک اکاؤنٹ، ہاتھ میں رکھی بچت، اور وہ قرض جو کسی کے ذمے ہے اور واپسی کی امید ہے۔
3. مالِ تجارت
دکان کا سامان، بیچنے کے لیے خریدا ہوا مال، یا وہ پلاٹ جو بیچنے کی نیت سے لیا گیا ہو۔ یہاں مارکیٹ ویلیو کے حساب سے زکوٰۃ نکلتی ہے۔
4. مویشی (چرنے والے جانور)
جو جانور سال کا بڑا حصہ باہر چر کر پلتے ہوں، ان کا الگ نصاب ہے: اونٹ میں 5، گائے میں 30 اور بکری میں 40 جانور۔
5. زمین کی پیداوار (عشر)
فصل اور پھل پر عشر ہوتا ہے: بارش یا نہر کے پانی سے ہو تو دسواں حصہ (10%)، اور ٹیوب ویل یا محنت سے پانی دیا گیا ہو تو بیسواں حصہ (5%)۔ فقہِ حنفی میں عشر کے لیے الگ نصاب شرط نہیں، جبکہ دوسرے علماء پانچ وسق کی شرط رکھتے ہیں۔
کن چیزوں پر زکوٰۃ فرض نہیں؟
- رہنے کا گھر
- روزمرہ استعمال کی گاڑی یا موٹرسائیکل
- کپڑے، فرنیچر اور گھر کا سامان
- ذاتی استعمال کی کتابیں اور اوزار
- وہ پلاٹ یا مکان جو بیچنے کی نیت سے نہ لیا گیا ہو
- کرائے پر دی ہوئی جائیداد (خود جائیداد پر نہیں، البتہ اس سے ملنے والی رقم اگر بچت میں جمع ہو تو اس پر زکوٰۃ ہے)
زکوٰۃ کا حساب کیسے لگائیں؟ (مرحلہ وار مثال)
مرحلہ 1: اپنے تمام قابلِ زکوٰۃ مال کی فہرست بنائیں: نقد رقم، بینک بیلنس، سونا چاندی، مالِ تجارت۔
مرحلہ 2: سونے چاندی اور مال کی آج کی بازاری قیمت لگائیں۔
مرحلہ 3: ان میں سے وہ قرض منہا (کم) کریں جو آپ کو ابھی دینا ہے۔
مرحلہ 4: باقی رقم کا موازنہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے کریں۔
مرحلہ 5: اگر برابر یا زیادہ ہے تو کل رقم کو 40 سے تقسیم کریں (یا 0.025 سے ضرب دیں)۔
فرضی مثال (اعداد صرف سمجھانے کے لیے ہیں، اصل ریٹ آپ خود چیک کریں):
فرض کریں احمد کے پاس:
- نقد اور بینک میں: 4,00,000 روپے
- دکان کا مال: 6,00,000 روپے
- قرض جو احمد کو دینا ہے: 1,00,000 روپے
کل مال: 10,00,000 − 1,00,000 = 9,00,000 روپے
فرض کریں چاندی کا نصاب 1,50,000 روپے بنتا ہے۔ چونکہ 9,00,000 اس سے زیادہ ہیں، احمد صاحبِ نصاب ہے۔
زکوٰۃ = 9,00,000 × 2.5% = 22,500 روپے
سال کب شروع ہوتا ہے؟ (حول کا مسئلہ)
جس دن آپ پہلی بار صاحبِ نصاب بنے، اس تاریخ سے قمری سال گنا جاتا ہے۔ ہر سال اسی تاریخ کو آپ کو اپنا حساب کرنا ہے۔
دو آسان باتیں:
- سال کے درمیان مال بڑھ جائے تو اضافے کا الگ سال نہیں لگتا، پورے مال کی زکوٰۃ اسی ایک تاریخ پر نکلے گی۔
- سال کے آخر میں آپ نصاب کے برابر ہوں تو زکوٰۃ فرض ہے، چاہے سال کے بیچ میں مال کچھ دن کم ہوا ہو۔
بہت سے لوگ سہولت کے لیے رمضان المبارک کو اپنی زکوٰۃ کی تاریخ مقرر کر لیتے ہیں تاکہ ہر سال ایک ہی وقت پر حساب ہو جائے۔
تنخواہ دار، بینک اور عام مسائل
تنخواہ اور بچت: ماہانہ تنخواہ پر الگ زکوٰۃ نہیں، بلکہ جو بچت سال کے آخر میں آپ کے پاس ہو (ضرورت اور قرض کے بعد) اس پر زکوٰۃ ہے۔
بینک اکاؤنٹ سے سرکاری کٹوتی: پاکستان میں حکومت یکم رمضان کو بینک اکاؤنٹس سے زکوٰۃ کاٹتی ہے، اور یہ چاندی کے نصاب کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ اگر آپ کا ذاتی حساب اس سے زیادہ بنتا ہے تو باقی رقم خود ادا کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ اس بارے میں اپنے عالم یا مفتی سے مشورہ ضرور لیں۔
پراویڈنٹ فنڈ: جو رقم آپ کے قبضے میں آ جائے، اس پر زکوٰۃ کا حساب علماء سے پوچھ کر لگائیں۔ تفصیل میں فرق ہو سکتا ہے۔
قرض دی ہوئی رقم: اگر واپسی کی امید ہو تو اس کی زکوٰۃ بھی بنتی ہے، لیکن عام طور پر رقم ملنے پر گزشتہ سالوں کی زکوٰۃ دینا ہوتی ہے۔ عالم سے تفصیل پوچھ لیں۔
زکوٰۃ کن لوگوں کو دی جا سکتی ہے؟
قرآن (سورۃ التوبہ، آیت 60) میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بتائے گئے ہیں:
- فقیر
- مسکین
- زکوٰۃ جمع کرنے والے عامل
- جن کے دلوں کو اسلام کی طرف مائل کرنا ہو
- غلام آزاد کرانے کے لیے
- قرض دار
- اللہ کی راہ میں
- مسافر جو راستے میں مدد کا محتاج ہو
ان کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی: اپنے ماں باپ، دادا دادی، اولاد، پوتے نواسے، اور میاں بیوی ایک دوسرے کو۔ اسی طرح سید (بنو ہاشم) اور خود صاحبِ نصاب کو بھی زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی۔
زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے دو چیزیں ضروری ہیں: نیت اور مستحق کو مالک بنا دینا (یعنی رقم اس کے ہاتھ میں دے دینا)۔
زکوٰۃ اور قربانی کے نصاب میں فرق
اکثر لوگ دونوں کو ایک سمجھ لیتے ہیں۔ فرق یہ ہے:
- زکوٰۃ: صرف بڑھنے والے مال پر (سونا، چاندی، نقد، مالِ تجارت) اور اس پر سال گزرنا ضروری ہے۔
- قربانی: بنیادی ضرورت سے زائد ہر قسم کے مال پر، اور اس پر سال گزرنا شرط نہیں۔
عام غلطیاں جن سے بچیں
- صرف زیور دیکھنا اور نقد رقم یا بینک بیلنس بھول جانا
- قرض منہا کیے بغیر حساب کرنا
- پرانا ریٹ لگا کر نصاب نکالنا
- زکوٰۃ کی رقم بلا نیت دے دینا
- کسی عالم سے پوچھے بغیر مشکل مسئلے کا اندازہ لگا لینا
Frequently Asked Questions (FAQs)
Q1. Zakat kis par farz hai?
Zakat is farz on every adult, sane Muslim who owns wealth equal to nisab for one full lunar year. The wealth must be more than his basic needs and debts.
Q2. What is the nisab of zakat?
Nisab is 7.5 tola gold (about 87.48 grams) or 52.5 tola silver (about 612.36 grams). For cash and trade goods, scholars usually use the silver nisab.
Q3. How much zakat should I pay?
You should pay 2.5% of your total zakat-able wealth. This means 2.50 rupees out of every 100 rupees.
Q4. Do I pay zakat on my house and car?
No. A house you live in and a car you use daily are basic needs. Zakat is not farz on them. But if you bought a plot to sell later, zakat is due on it.
Q5. Is zakat farz on jewellery?
In the Hanafi school, yes, zakat is due on gold and silver jewellery if it reaches nisab. Some other scholars differ, so ask a scholar of your school.
Q6. What if I have a loan?
First subtract the loan you must pay from your total wealth. If the rest is still equal to nisab or more, you must pay zakat.
Q7. When should I pay zakat?
Pay it when one full lunar year passes after you first owned nisab. Many people choose Ramadan as their yearly date to make it easy.
Q8. Can I give zakat to my parents or children?
No. Zakat cannot be given to parents, grandparents, children, or grandchildren. You can help them with other charity.
Q9. Is a salary subject to zakat?
Not the monthly salary itself. Zakat is due on the savings you still have at the end of your zakat year.
Q10. What if I forgot to pay zakat in past years?
Zakat does not end with time. You should calculate the missed years and pay them as soon as possible. Please ask a trusted scholar for help.
Conclusion
Now you know zakat kis par farz hai aur nisab ka usool. Zakat is farz on a Muslim who owns nisab, which is 7.5 tola gold or 52.5 tola silver (or its value in cash and trade goods), above his needs and debts, for one lunar year. The rate is 2.5%. Always check the new gold and silver price before you count. Pay it with a good intention and give it to the right people. If your case is complicated, please ask a trusted scholar or mufti. May Allah accept our zakat and make our wealth blessed. Ameen.




























