Many people know that zakat is farz, but they get stuck at one point: how to count it. If you are asking zakat kaise calculate karein misalon ke saath, you are in the right place. In this guide, we will not only give you the formula. We will also solve six real-life examples, such as a salaried person, a shopkeeper, a housewife with gold, and a person with a loan. Every example uses simple numbers in Pakistani rupees, so you can copy the method for your own case. We have kept the English easy and the Urdu simple.
Zakat Kis Par Farz Hai Aur Nisab Ka Usool
حساب شروع کرنے سے پہلے: ایک ضروری بات
اس مضمون میں نصاب کی بحث مختصر ہے۔ اگر آپ کو یہ تفصیل سے سمجھنی ہو کہ زکوٰۃ کس پر فرض ہے، تو ہمارا الگ مضمون “زکوٰۃ کس پر فرض ہے اور نصاب کا اصول” پڑھ لیں۔ یہاں ہم سیدھا حساب لگانا سیکھیں گے۔
ایک یاد دہانی: یہ رہنمائی فقہِ حنفی کے مطابق ہے، جو پاکستان میں عام ہے۔ اہلِ حدیث اور دوسرے مسالک میں کچھ جزوی فرق ہو سکتے ہیں۔
Zakat Kaise Calculate Karein Misalon Ke Saath: پہلے یہ 3 سوال حل کریں
حساب لگانے سے پہلے اپنے آپ سے تین سوال پوچھیں:
سوال 1: میری زکوٰۃ کی تاریخ کون سی ہے؟
جس قمری (چاند کی) تاریخ کو آپ پہلی بار صاحبِ نصاب بنے تھے، وہی آپ کی زکوٰۃ کی تاریخ ہے۔ بہت سے لوگ سہولت کے لیے یکم رمضان کو اپنی تاریخ بنا لیتے ہیں۔ ایک بار تاریخ طے کر لیں تو ہر سال اسی دن پورا حساب کریں۔
سوال 2: آج میرے پاس کیا کیا ہے؟
نقد، بینک، سونا، چاندی، دکان کا مال، اور وہ پیسے جو کسی نے آپ کو واپس کرنے ہیں۔
سوال 3: مجھے کتنا قرض دینا ہے؟
وہ رقم جو واقعی ادا کرنا آپ کے ذمے ہے۔
زکوٰۃ کا فارمولا ایک لائن میں
زکوٰۃ = (قابلِ زکوٰۃ کل مال − واجب الادا قرض) × 2.5%
یعنی کل رقم کو 40 سے تقسیم کر دیں۔ مثلاً 4,00,000 روپے ہوں تو زکوٰۃ 10,000 روپے بنتی ہے۔
لیکن یہ حساب تب ہے جب آپ کی بچی ہوئی رقم ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا زیادہ ہو (سونا، نقد اور مالِ تجارت ملا کر)۔ اگر کم ہو تو زکوٰۃ فرض نہیں۔
ایک اور کام جو آپ کو پہلے کرنا ہے: آج کا چاندی کا ریٹ دیکھیں اور ساڑھے باون تولہ سے ضرب دے کر نصاب کی رقم نکالیں۔ نیچے کی تمام مثالوں میں ہم فرض کر رہے ہیں کہ نصاب کی رقم 2,00,000 روپے بنتی ہے۔ آپ اپنے دن کے ریٹ سے یہ رقم بدل لیں۔
مثال 1: تنخواہ دار شخص (بلال)
بلال ایک کمپنی میں کام کرتا ہے۔ سال پورا ہونے کی تاریخ پر اس کے پاس:
- بینک میں بچت: 5,00,000 روپے
- گھر میں نقد: 50,000 روپے
- دوست کا قرض جو اسے ابھی دینا ہے: 80,000 روپے
حساب:
5,00,000 + 50,000 = 5,50,000
5,50,000 − 80,000 = 4,70,000 روپے
یہ نصاب (2,00,000) سے زیادہ ہے، اس لیے بلال پر زکوٰۃ فرض ہے۔
زکوٰۃ: 4,70,000 × 2.5% = 11,750 روپے
سیکھنے کی بات: بلال کی ماہانہ تنخواہ پر الگ زکوٰۃ نہیں لگی۔ اس نے صرف وہ رقم گنی جو سال کی تاریخ پر اس کے پاس بچی ہوئی تھی۔
مثال 2: دکاندار (رفیق)
رفیق کی کپڑے کی دکان ہے۔ حساب کے دن اس کے پاس:
- دکان میں موجود مال (آج کی بازاری قیمت پر): 12,00,000 روپے
- دکان کے گلے میں نقد: 1,50,000 روپے
- گاہکوں سے وصول ہونے والی رقم (جس کی واپسی کی پکی امید ہے): 2,00,000 روپے
- مال دینے والے کو ادا کرنے والی رقم: 3,00,000 روپے
حساب:
12,00,000 + 1,50,000 + 2,00,000 = 15,50,000
15,50,000 − 3,00,000 = 12,50,000 روپے
زکوٰۃ: 12,50,000 × 2.5% = 31,250 روپے
سیکھنے کی باتیں:
- مال کی قیمت خرید کی نہیں، آج کی بازاری قیمت پر لگتی ہے۔
- دکان کا فرنیچر، کاؤنٹر، فریج اور ترازو جیسی چیزیں جو بیچنے کے لیے نہیں ہیں، ان پر زکوٰۃ نہیں۔
- جو رقم گاہکوں سے ملنی ہے وہ اگر پکی ہو تو گنی جائے گی، ڈوبی ہوئی رقم نہیں۔
مثال 3: گھریلو خاتون جس کے پاس زیور ہے (صائمہ)
صائمہ کے پاس صرف 6 تولہ سونا ہے، جو ساڑھے سات تولہ سے کم ہے۔ تو کیا اس پر زکوٰۃ نہیں؟ آئیے دیکھتے ہیں۔
اس کے پاس ہے:
- 6 تولہ سونا (فرض کریں 1 تولہ سونا = 4,00,000 روپے): 24,00,000 روپے
- 5 تولہ چاندی کے برتن اور زیور: 20,000 روپے
- نقد رقم: 20,000 روپے
حساب:
24,00,000 + 20,000 + 20,000 = 24,40,000 روپے
یہ چاندی کے نصاب (2,00,000) سے بہت زیادہ ہے۔
زکوٰۃ: 24,40,000 × 2.5% = 61,000 روپے
سیکھنے کی باتیں:
- فقہِ حنفی میں سونا، چاندی اور نقد کو ملا کر دیکھا جاتا ہے۔ اس لیے 6 تولہ سونا ہونے کے باوجود صائمہ پر زکوٰۃ فرض ہے۔
- بہت سی خواتین یہ سمجھ کر زکوٰۃ نہیں دیتیں کہ “میرے پاس تو ساڑھے سات تولہ نہیں”۔ یہ ایک عام غلطی ہے۔
- یہ زکوٰۃ سونے کی شکل میں بھی دی جا سکتی ہے اور اس کی قیمت کے برابر رقم کی شکل میں بھی۔
- اگر صائمہ کے پاس خود پیسے نہ ہوں اور شوہر ادا کر دے، تو صائمہ کی اجازت سے ہی یہ ادا ہوگی۔
مثال 4: بیرونِ ملک کام کرنے والا اور پلاٹ (عمران)
عمران سعودی عرب میں کام کرتا ہے۔ اس کے پاس:
- بینک میں بچت: 8,00,000 روپے
- ایک پلاٹ جو اس نے بیچنے کی نیت سے خریدا، آج کی قیمت: 15,00,000 روپے
- ایک دوسرا پلاٹ جس پر وہ اپنا گھر بنانا چاہتا ہے: 10,000,00 روپے
حساب:
بچت: 8,00,000
پہلا پلاٹ (بیچنے کی نیت): 15,00,000
دوسرا پلاٹ (گھر کی نیت): شمار نہیں ہوگا
8,00,000 + 15,00,000 = 23,00,000 روپے
زکوٰۃ: 23,00,000 × 2.5% = 57,500 روپے
سیکھنے کی باتیں:
- پلاٹ پر زکوٰۃ کا دارومدار نیت پر ہے۔ جو پلاٹ بیچنے کے لیے لیا گیا وہ مالِ تجارت ہے، اور جو رہنے کے لیے لیا گیا اس پر زکوٰۃ نہیں۔
- اگر نیت بدل جائے (مثلاً پہلے بیچنے کی تھی اور اب رہنے کی ہو گئی) تو اس بارے میں عالم سے پوچھ لیں۔
- پلاٹ کی قیمت اس دن کی بازاری قیمت سے لگائیں، خرید کی قیمت سے نہیں۔
مثال 5: قرض والا شخص (کامران)
کامران کے پاس 3,00,000 روپے ہیں، لیکن اس پر ایک دوست کا 2,80,000 روپے قرض ہے جو ابھی ادا کرنا ہے۔
حساب:
3,00,000 − 2,80,000 = 20,000 روپے
یہ رقم نصاب (2,00,000) سے بہت کم ہے۔
نتیجہ: کامران پر اس سال زکوٰۃ فرض نہیں۔
سیکھنے کی باتیں:
- زکوٰۃ سے پہلے واجب الادا قرض ضرور نکالیں۔ یہ سب سے زیادہ بھلائی جانے والی بات ہے۔
- لمبی مدت کی قسطوں والے قرض (جیسے گھر یا گاڑی کا لون) کے بارے میں علماء میں تفصیل ہے۔ عام طور پر وہ قسطیں منہا کی جاتی ہیں جو ادا کرنے کا وقت آ چکا ہو۔ پورا لمبا قرض ایک ساتھ کم کرنے کے بارے میں اپنے مفتی سے ضرور پوچھیں۔
مثال 6: چھوٹا سرمایہ کار (عائشہ)
عائشہ ایک خاتون ہے جو شیئرز اور پرائز بانڈ میں سرمایہ لگاتی ہے۔ اس کے پاس:
- وہ شیئرز جو اس نے خرید و فروخت (ٹریڈنگ) کی نیت سے لیے، آج کی مارکیٹ ویلیو: 5,00,000 روپے
- پرائز بانڈ: 1,00,000 روپے (فیس ویلیو)
- نقد: 50,000 روپے
حساب:
5,00,000 + 1,00,000 + 50,000 = 6,50,000 روپے
زکوٰۃ: 6,50,000 × 2.5% = 16,250 روپے
سیکھنے کی باتیں:
- ٹریڈنگ کے شیئرز مالِ تجارت ہیں اور ان پر مارکیٹ ویلیو سے زکوٰۃ نکلتی ہے۔
- پرائز بانڈ کو عام طور پر نقد رقم کی طرح گنا جاتا ہے۔
- جو شیئرز لمبے عرصے کے لیے منافع (ڈیویڈنڈ) کی نیت سے رکھے ہوں، ان کا طریقہ کچھ مختلف ہے، اس لیے اس کے لیے کسی عالم یا مستند ادارے سے پوچھ لیں۔
ایک نظر میں: کس چیز کو کیسے گنیں؟
| چیز | کیسے گنیں |
|---|---|
| نقد اور بینک بیلنس | جتنی رقم ہے، پوری |
| سونا، چاندی | آج کے ریٹ پر پوری قیمت |
| دکان کا مال | آج کی بازاری قیمت |
| بیچنے کی نیت کا پلاٹ | آج کی بازاری قیمت |
| رہائشی گھر، پلاٹ (رہنے کی نیت) | شمار نہیں |
| روزمرہ کی گاڑی | شمار نہیں |
| پکی وصولی والا قرض | شمار ہوگا |
| واجب الادا قرض | منہا (مائنس) ہوگا |
بینک کی کٹوتی کا کیا کریں؟
پاکستان میں حکومت یکم رمضان کو بینک اکاؤنٹس سے زکوٰۃ کاٹتی ہے۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ یہ کٹوتی صرف بینک رقم پر ہوتی ہے۔ آپ کے سونے، دکان یا پلاٹ کی زکوٰۃ اس میں شامل نہیں۔ اس لیے اپنا پورا حساب خود کریں۔ سرکاری کٹوتی کو اپنے حساب میں شمار کرنے کے بارے میں اپنے مفتی سے مشورہ لے لیں۔
زکوٰۃ کا حساب لگاتے وقت 7 عام غلطیاں
- صرف سونا دیکھنا، بینک اور نقد بھول جانا
- قرض منہا کیے بغیر حساب کرنا
- پرانا ریٹ لگانا
- مالِ تجارت کو خرید کی قیمت پر گننا
- “ساڑھے سات تولہ نہیں تو زکوٰۃ نہیں” سمجھ لینا
- ہر سال نئی تاریخ پر حساب کرنا (ایک ہی تاریخ رکھیں)
- حساب اندازے سے کرنا اور لکھ کر نہ رکھنا
حساب آسان کرنے کے 4 مشورے
- ایک رجسٹر یا موبائل نوٹ میں سال بھر کی بچت، سونا اور قرض لکھتے رہیں۔
- زکوٰۃ کی تاریخ سے ایک ہفتہ پہلے چاندی اور سونے کا ریٹ نوٹ کر لیں۔
- ایک اسپریڈ شیٹ بنا لیں جس میں اوپر کی فہرست کی طرح سب چیزیں لکھی ہوں۔ ہر سال صرف اعداد بدلنے ہوں گے۔
- اگر شک ہو تو حساب کے بعد کسی معتبر دارالافتاء سے پوچھ لیں۔
Frequently Asked Questions (FAQs)
Q1. What is the easy formula for zakat?
Add all your zakat-able wealth. Subtract the debts you must pay now. Then multiply the rest by 2.5%. You can also divide it by 40.
Q2. Do I pay zakat on my monthly salary?
You do not pay on each month’s salary. You pay on the savings you still have on your zakat date, if they reach nisab.
Q3. Which nisab should I use for cash and savings?
Most scholars use the silver nisab (52.5 tola) for cash, savings, and trade goods. Check today’s silver rate before you count.
Q4. If I have only 5 tola of gold and no cash, do I pay zakat?
Not if that is all you own, because it is below the nisab. But if you also have cash, silver, or trade goods, add them all together. If the total reaches the silver nisab, zakat is due.
Q5. Can I subtract my home loan from my zakat?
Scholars usually allow you to subtract the loan amount that is due now, like the instalments you must pay. For the full long loan, please ask a trusted mufti.
Q6. Do I pay zakat on a house or plot?
No, if the house is for living or the plot is for building your home. Yes, if you bought the plot to sell it for profit.
Q7. Does the bank’s zakat deduction finish my zakat?
It covers only your bank money. If you also have gold, trade goods, or other zakat-able wealth, you must pay on them yourself. Ask a mufti how to count the bank deduction.
Q8. Can I pay my zakat in small parts?
Yes. You can pay in parts during the year, as long as you have the intention of zakat when you give. Please make sure the total is correct before the next zakat date.
Q9. Can I pay zakat early?
Yes. Scholars allow paying early if you already own nisab. Just make sure you do not pay less than what is due on your final date.
Q10. What if I made a mistake in my old calculation?
Do not worry. Count the right amount, pay the missing part, and ask a scholar if the matter is complex. Allah knows your effort and your intention.
Conclusion
Now you know zakat kaise calculate karein misalon ke saath. Write down all your zakat-able wealth, subtract the debts you must pay now, check that the rest reaches nisab, and then give 2.5%. Our six examples showed that salary, shop stock, gold, plots, shares, and loans all follow the same simple method. Keep one fixed zakat date every year, use today’s market rates, and write your numbers down. If your case is special, please ask a trusted scholar. May Allah accept your zakat and bless your wealth. Ameen.



