Tayammum Ka Tarika in Urdu

Tayammum Ka Tarika in Urdu

Tayammum ka tarika in Urdu is an important part of Islam that every Muslim should know, especially when water is not available for wudu or ghusl. Tayammum ka tarika allows Muslims to stay clean and ready for prayer even in difficult situations, like traveling, illness, or extreme cold weather. In this simple guide, we will explain what tayammum is, when it is allowed, and how to do tayammum ka tarika the correct way, step by step, following the Quran and Sunnah.

تیمم کیا ہے؟

تیمم عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے “ارادہ کرنا” یا “قصد کرنا”۔ شرعی اصطلاح میں تیمم سے مراد ہے پاک مٹی یا اس جیسی کسی چیز سے چہرے اور ہاتھوں پر مسح کرنا، جب پانی میسر نہ ہو یا پانی کا استعمال نقصان دہ ہو۔ تیمم دراصل وضو اور غسل کا قائم مقام ہے، یعنی جس طرح وضو اور غسل سے پاکی حاصل ہوتی ہے، اسی طرح تیمم سے بھی نماز کے لیے پاکی حاصل ہو جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

“اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لو، اور اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کر لو۔” (سورۃ المائدہ: 6)

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ تیمم کرنا اسلام میں ایک آسانی ہے، تاکہ کسی بھی حالت میں مسلمان نماز سے محروم نہ رہے۔

تیمم کب جائز ہے؟

تیمم ہر وقت جائز نہیں ہوتا، بلکہ چند مخصوص حالات میں اس کی اجازت دی گئی ہے۔ نیچے وہ حالات بیان کیے گئے ہیں جن میں تیمم کیا جا سکتا ہے:

  1. پانی نہ ملنا – اگر کسی جگہ پانی موجود نہ ہو، جیسے سفر میں یا کسی ویران جگہ پر۔
  2. بیماری کی وجہ سے پانی نقصان دہ ہو – اگر ڈاکٹر یا تجربہ بتائے کہ پانی کے استعمال سے بیماری بڑھ سکتی ہے۔
  3. شدید سردی – اگر پانی اتنا ٹھنڈا ہو کہ اس کے استعمال سے جان کو خطرہ ہو اور پانی گرم کرنے کا کوئی ذریعہ نہ ہو۔
  4. زخم یا چوٹ – اگر جسم پر ایسا زخم ہو جس پر پانی لگانے سے نقصان کا اندیشہ ہو۔
  5. پانی کی کمی کا خدشہ – اگر سفر میں پانی بہت کم ہو اور آگے پانی ملنے کی امید نہ ہو۔
  6. حائضہ اور نفاس والی خواتین – جب پانی نہ ملے تو حیض و نفاس سے فارغ ہونے والی خواتین بھی تیمم کر کے نماز پڑھ سکتی ہیں۔

تیمم کے فرائض

تیمم کے دو بنیادی فرائض ہیں، جن کے بغیر تیمم مکمل نہیں ہوتا:

  1. پورے چہرے کا مسح کرنا – پیشانی کے بالوں سے لے کر ٹھوڑی تک اور ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک۔
  2. دونوں ہاتھوں کا کہنیوں سمیت مسح کرنا – انگلیوں سے لے کر کہنیوں تک، بغیر کسی جگہ چھوڑے۔

اگر بال برابر بھی جگہ مسح سے رہ جائے تو تیمم درست نہیں ہوگا، اس لیے یہ بات خاص طور پر یاد رکھنی چاہیے۔

تیمم کا مسنون طریقہ – قدم بہ قدم

نیچے تیمم کے طریقے کو آسان اور مکمل انداز میں مرحلہ وار بیان کیا گیا ہے:

پہلا قدم: نیت کرنا

تیمم شروع کرنے سے پہلے دل میں پاکی حاصل کرنے کی نیت کریں اور زبان سے “بسم اللہ” کہیں۔ نیت کے بغیر تیمم درست نہیں ہوتا۔

دوسرا قدم: چہرے کا مسح

دونوں ہاتھوں کو پاک مٹی، ریت، یا کسی ایسی چیز پر ایک بار ماریں جس پر گرد و غبار موجود ہو (جیسے دیوار، پتھر یا مٹی)۔ اس کے بعد دونوں ہاتھوں کو جھاڑ کر پورے چہرے پر مسح کریں۔

تیسرا قدم: ہاتھوں کا مسح

دوبارہ دونوں ہاتھوں کو مٹی پر ماریں اور جھاڑ لیں۔ پھر بائیں ہاتھ کی ہتھیلی سے دائیں ہاتھ کا اوپر والا حصہ کہنی تک مسح کریں، اور دائیں ہاتھ کی ہتھیلی سے بائیں ہاتھ کا اوپر والا حصہ کہنی تک مسح کریں۔

چوتھا قدم: انگلیوں کا خلال

دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں ملا کر خلال کریں تاکہ انگلیوں کے درمیان کوئی جگہ خشک نہ رہے۔ اگر انگوٹھی پہنی ہو تو اسے ہلا کر نیچے تک مسح پہنچانا ضروری ہے۔

تیمم کی سنتیں

تیمم کے فرائض کے علاوہ کچھ سنتیں بھی ہیں جن پر عمل کرنا بہتر اور باعثِ ثواب ہے:

  • تیمم شروع کرتے وقت “بسم اللہ” پڑھنا
  • ہاتھوں کی انگلیاں کھلی رکھ کر مٹی پر مارنا
  • ترتیب کے ساتھ پہلے چہرہ پھر ہاتھوں کا مسح کرنا
  • انگلیوں کا خلال کرنا

مردوں اور عورتوں کے لیے تیمم کا طریقہ

تیمم کا طریقہ مردوں اور عورتوں کے لیے یکساں ہے، البتہ عورتوں کو چند اضافی باتوں کا خیال رکھنا چاہیے:

  • اگر ہاتھوں میں مہندی یا نیل پالش لگی ہو جو جِلد تک ہوا اور پانی پہنچنے سے روکے، تو تیمم سے پہلے اسے صاف کرنا ضروری ہے۔
  • حیض و نفاس کی حالت میں اگر پانی دستیاب نہ ہو یا استعمال سے نقصان کا خدشہ ہو، تو عورت تیمم کر کے نماز ادا کر سکتی ہے۔
  • زیورات (جیسے انگوٹھی، چوڑیاں) کے نیچے بھی مسح پہنچانا ضروری ہے۔

تیمم کی دعا

تیمم مکمل کرنے کے بعد یہ دعا پڑھنا مستحب ہے:

“اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ”

ترجمہ: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔

تیمم کن چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے؟

تیمم ان تمام چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے جن سے وضو یا غسل ٹوٹتا ہے، جیسے:

  • پیشاب یا پاخانہ
  • نیند (لیٹ کر یا ٹیک لگا کر)
  • ہوا خارج ہونا
  • پانی کا میسر آ جانا (اگر تیمم پانی نہ ملنے کی وجہ سے کیا گیا ہو)

جیسے ہی پانی دستیاب ہو جائے اور کوئی عذر باقی نہ رہے، تیمم ختم ہو جاتا ہے اور وضو یا غسل کرنا لازم ہو جاتا ہے۔

عام غلطیاں جو لوگ تیمم میں کرتے ہیں

 

بہت سے لوگ تیمم کرتے وقت چند عام غلطیاں کرتے ہیں جن سے بچنا ضروری ہے:

  1. مسح کرتے وقت جلدی میں کچھ حصہ چھوڑ دینا، خاص طور پر کان کے قریب یا کہنیوں کے پاس۔
  2. انگلیوں کا خلال نہ کرنا۔
  3. صرف ایک بار ہاتھ مار کر چہرہ اور ہاتھ دونوں کا مسح کرنے کی کوشش کرنا، جبکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ چہرے کے لیے ایک بار اور ہاتھوں کے لیے دوبارہ ہاتھ مارے جائیں۔
  4. نیت نہ کرنا یا نیت میں غفلت برتنا۔

Frequently Asked Questions

1. What is Tayammum ka tarika? Tayammum ka tarika is the Islamic way of cleaning yourself for prayer using clean earth, sand, or dust when water is not available or cannot be used.

2. When can a Muslim use Tayammum instead of Wudu? A Muslim can use Tayammum when there is no water, when water is too cold or unsafe to use, when someone is sick, or when using water may cause harm to the body.

3. How many steps are there in Tayammum? There are two main steps: wiping the whole face, and wiping both arms up to the elbows. Before that, you make an intention and say Bismillah.

4. Does Tayammum need water at all? No. Tayammum does not use water. It uses clean earth, sand, stone, or dust instead of water for purification.

5. What breaks Tayammum? Tayammum breaks with the same things that break Wudu, such as using the washroom, sleeping, or passing gas. It also ends once clean water becomes available.

6. Can women perform Tayammum during their period? Yes, if water is not available or cannot be used safely, a woman can perform Tayammum after her period or postnatal bleeding ends, to pray.

Ghusl Ka Sunnat Tarika Mardon Aur Auraton Ke Liye

Conclusion

Learning the correct Tayammum ka tarika in Urdu is very important for every Muslim, because it makes sure that no one misses their prayer just because water is not available. By following the simple steps of intention, wiping the face, and wiping the arms up to the elbows, anyone can perform Tayammum the right way, exactly as taught by the Quran and Sunnah. Whether you are traveling, sick, or facing extreme weather, knowing Tayammum ka tarika gives you an easy and reliable way to stay pure and ready to stand before Allah in prayer.