Sahih Muslim Hadees No 1 in Urdu (جسے حدیثِ جبریل بھی کہا جاتا ہے) اسلامی عقائد اور شریعت کی بنیادی ترین اور جامع ترین احادیث میں سے ایک ہے۔ امام مسلم بن حجاج القشیریؒ نے اپنی عظیم الشان کتاب صحیح مسلم کا آغاز اس ایمان افروز حدیث سے کیا ہے، جو ہمیں ایمان، اسلام، احسان اور قیامت کی نشانیوں کا مکمل فہم عطا کرتی ہے۔ اس مضمون میں صحیح مسلم حدیث نمبر 1 کا عربی متن، اردو ترجمہ اور جامع تشریح پیش کی جا رہی ہے۔
حدیث کی مکمل تفصیلات (Hadith Details & Reference)
| عنوان | تفصیلات |
| کتاب کا نام | صحیح مسلم (صحيح مسلم) |
| کتاب / باب | کتاب الایمان (کتاب نمبر 1) |
| حدیث نمبر | 1 |
| راوی | حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ |
| موضوع | ایمان، اسلام، احسان اور علاماتِ قیامت (حدیثِ جبریل) |
1. عربی متن (Arabic Text of Sahih Muslim Hadees 1)
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ، شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعَرِ، لاَ يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ، وَلاَ يَعْرِفُهُ مِنَّا أَحَدٌ، حَتَّى جَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْنَدَ رُكْبَتَيْهِ إِلَى رُكْبَتَيْهِ، وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ، وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي عَنِ الإِسْلاَمِ؟
فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: “الإِسْلاَمُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَتُقِيمَ الصَّلاَةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلاً”. قَالَ: صَدَقْتَ.
قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الإِيمَانِ؟ قَالَ: “أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ، وَمَلاَئِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَالْيَوْمِ الآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ”. قَالَ: صَدَقْتَ.
قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ الإِحْسَانِ؟ قَالَ: “أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ”.
قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنِ السَّاعَةِ؟ قَالَ: “مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ”. قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَاتِهَا؟ قَالَ: “أَنْ تَلِدَ الأَمَةُ رَبَّتَهَا، وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ”.
ثُمَّ انْطَلَقَ، فَلَبِثْتُ مَلِيًّا، ثُمَّ قَالَ لِي: “يَا عُمَرُ، أَتَدْرِي مَنِ السَّائِلُ؟” قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: “فَإِنَّهُ جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ”.
2. اردو ترجمہ (Urdu Translation)
ترجمہ:
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:
ایک دن ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ اچانک ہمارے سامنے ایک شخص نمودار ہوا جس کے کپڑے انتہائی سفید اور بال نہایت سیاہ تھے۔ اس پر سفر کے کوئی آثار ظاہر نہ تھے اور ہم میں سے کوئی اسے پہچانتا بھی نہ تھا۔ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آ کر بیٹھ گیا، اپنے گھٹنے آپ ﷺ کے گھٹنوں سے ملا دیے اور اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر رکھ لیے، پھر کہا: “اے محمد (ﷺ)! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے؟”
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرے، زکوٰۃ ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے اور اگر استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کرے۔” اس نے کہا: “آپ نے سچ فرمایا۔”
پھر اس نے پوچھا: “مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے؟” آپ ﷺ نے فرمایا: “ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، قیامت کے دن پر اور اچھی و بری تقدیر پر ایمان لائے۔” اس نے کہا: “آپ نے سچ فرمایا۔”
پھر اس نے پوچھا: “مجھے احسان کے بارے میں بتائیے؟” آپ ﷺ نے فرمایا: “احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے، اور اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے دیکھ ہی رہا ہے۔”
پھر پوچھا: “مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے؟” آپ ﷺ نے فرمایا: “جس سے پوچھا جا رہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔” اس نے کہا: “اس کی کچھ نشانیاں ہی بتا دیجیے۔” آپ ﷺ نے فرمایا: “لونڈی اپنی مالکن کو جنم دے گی، اور تم دیکھو گے کہ ننگے پاؤں، ننگے بدن، محتاج اور بکریاں چرانے والے اونچی اونچی عمارتوں میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے۔”
پھر وہ شخص چلا گیا۔ میں کچھ دیر ٹھہرا رہا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: “اے عمر! کیا تم جانتے ہو کہ وہ سوال کرنے والا کون تھا؟” میں نے عرض کیا: “اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔” آپ ﷺ نے فرمایا: “وہ جبرائیل (علیہ السلام) تھے، جو تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔”
تفصیلی تشریح و فوائد (Key Takeaways in Urdu)
اس عظیم الشان حدیث مبارکہ میں دینِ اسلام کے چار بنیادی ارکان بیان کیے گئے ہیں:
-
ارکانِ اسلام (Pillars of Islam): توحید و رسالت کی گواہی، اقامتِ نماز، ایتاءِ زکوٰۃ، صومِ رمضان، اور حجِ بیت اللہ۔
-
ارکانِ ایمان (Articles of Faith): اللہ، فرشتوں، آسمانی کتابوں، رسولوں، آخرت، اور تقدیر پر کامل یقین رکھنا۔
-
مقامِ احسان (Excellence in Worship): عبادت میں اخلاص اور حضورِ قلبی کی وہ اعلیٰ ترین کیفیت جہاں بندہ خود کو اللہ کے سامنے محسوس کرتا ہے۔
-
علاماتِ قیامت (Signs of Doomsday): قیامت کا حتمی علم صرف اللہ کے پاس ہے، تاہم معاشرتی انقلاب اور مفلس لوگوں کا بڑی عمارتیں بنانے میں مقابلہ کرنا اس کی علامتوں میں سے ہے۔
نتیجہ (Conclusion)
خلاصہ یہ کہ Sahih Muslim Hadees No 1 in Urdu دراصل پورے دین کا خلاصہ اور نچوڑ ہے۔ اسے “حدیثِ جبریل” کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے جبرائیل علیہ السلام نے سوال وجواب کی صورت میں صحابہ کرام اور پوری امت کو دین کے اساس مفاہیم کی تعلیم دی۔ اس حدیث مبارکہ کو پڑھنا اور اس پر عمل پیرا ہونا ہر مسلمان کے دینی فہم کو کامل بناتا ہے۔
Sahih Muslim Hadees No 2 in Urdu | Arabi Matan aur Urdu Tarjuma






















