تعارف
اسلامی تاریخ میں صحیح بخاری حدیث نمبر 3 ایک انتہائی اہم اور بنیادی حدیث ہے، کیونکہ اسی حدیث میں نبی کریم ﷺ پر وحی کے آغاز کی پوری تفصیل بیان کی گئی ہے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے “کتاب بدء الوحی” (وحی کے آغاز کی کتاب) میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے نقل کی ہے۔ اس مضمون میں ہم صحیح بخاری حدیث نمبر 3 کو عربی متن، اردو ترجمہ اور مکمل تشریح کے ساتھ پیش کریں گے تاکہ قارئین اس عظیم واقعے کو تفصیل سے سمجھ سکیں۔
صحیح بخاری حدیث نمبر 3 – راوی اور حوالہ
- راوی: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا (اُمّ المؤمنین)
- کتاب: کتاب بدء الوحی (Book of Revelation)
- حدیث نمبر: 3 (جلد 1، کتاب 1)
- درجہ: صحیح (متفق علیہ)
صحیح بخاری حدیث نمبر 3 کا عربی متن
نیچے صحیح بخاری حدیث نمبر 3 کا اصل عربی متن درج ہے جو امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے:
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّهَا قَالَتْ:
أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْوَحْىِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ فِي النَّوْمِ، فَكَانَ لاَ يَرَى رُؤْيَا إِلاَّ جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلاَءُ، وَكَانَ يَخْلُو بِغَارِ حِرَاءٍ فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ ـ وَهُوَ التَّعَبُّدُ ـ اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ قَبْلَ أَنْ يَنْزِعَ إِلَى أَهْلِهِ، وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا، حَتَّى جَاءَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ، فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فَقَالَ: اقْرَأْ. قَالَ: «مَا أَنَا بِقَارِئٍ». قَالَ: «فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ: اقْرَأْ. قُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ. فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ: اقْرَأْ. فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ. فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ:
﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ، خَلَقَ الإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ، اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ﴾»۔
فَرَجَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْجُفُ فُؤَادُهُ، فَدَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ رضى الله عنها فَقَالَ: «زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي». فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ، فَقَالَ لِخَدِيجَةَ وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ: «لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي». فَقَالَتْ خَدِيجَةُ: كَلاَّ وَاللَّهِ مَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ۔
صحیح بخاری حدیث نمبر 3 کا اردو ترجمہ
صحیح بخاری حدیث نمبر 3 کا اردو ترجمہ کچھ اس طرح ہے:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر وحی کی ابتدا سچے خوابوں کی صورت میں ہوئی۔ آپ ﷺ جو بھی خواب دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح صاف اور سچا ثابت ہوتا۔ پھر آپ ﷺ کے دل میں تنہائی پسند فرمانا ڈال دیا گیا اور آپ ﷺ غارِ حرا میں جا کر کئی کئی راتیں عبادت میں مشغول رہتے، اور اپنے گھر والوں کے پاس جانے سے پہلے اس کے لیے توشہ (کھانے پینے کا سامان) ساتھ لے جاتے۔ پھر واپس آ کر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاتے اور دوبارہ اسی طرح توشہ لے کر جاتے، یہاں تک کہ ایک دن غارِ حرا ہی میں آپ ﷺ کے پاس حق (وحی) آ گیا۔
فرشتہ آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: “پڑھو (اقرأ)۔” آپ ﷺ نے فرمایا: “میں پڑھا لکھا نہیں ہوں۔” آپ ﷺ نے فرمایا کہ فرشتے نے مجھے پکڑ کر اتنی زور سے بھینچا کہ میری طاقت جواب دے گئی، پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا: “پڑھو۔” میں نے کہا: “میں پڑھا لکھا نہیں ہوں۔” اس نے دوسری بار پھر پکڑ کر بھینچا، پھر چھوڑ کر کہا: “پڑھو۔” میں نے پھر یہی جواب دیا۔ اس نے تیسری بار مجھے پکڑا اور بھینچا، پھر چھوڑ کر یہ آیات پڑھیں:
“پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا، اس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا، پڑھو اور تمہارا رب سب سے زیادہ کریم ہے۔” (سورۃ العلق: 1-3)
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کانپتے ہوئے دل کے ساتھ واپس تشریف لائے اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آ کر فرمایا: “مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو۔” چنانچہ انہوں نے آپ ﷺ کو چادر اوڑھا دی یہاں تک کہ آپ ﷺ کا خوف جاتا رہا۔ پھر آپ ﷺ نے حضرت خدیجہ کو سارا واقعہ سنایا اور فرمایا: “مجھے اپنی جان کا خطرہ محسوس ہوا۔” حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: “ہرگز نہیں! اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ آپ تو صلہ رحمی کرتے ہیں، بے سہارا لوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، نادار کو کما کر دیتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کی راہ میں مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔”
اس کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کو اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، جو زمانہ جاہلیت میں عیسائی ہو گئے تھے اور عبرانی زبان میں انجیل لکھا کرتے تھے۔ وہ بوڑھے اور نابینا ہو چکے تھے۔ حضرت خدیجہ نے ان سے کہا کہ اپنے بھتیجے کی بات سنیں۔ نبی کریم ﷺ نے انہیں سارا واقعہ بتایا تو ورقہ نے کہا: “یہ تو وہی ناموس (فرشتہ جبریل) ہے جسے اللہ نے موسیٰ علیہ السلام پر اتارا تھا۔ کاش میں اس وقت جوان ہوتا، کاش میں زندہ رہوں جب آپ کی قوم آپ کو نکال دے گی۔” نبی کریم ﷺ نے پوچھا: “کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟” ورقہ نے کہا: “ہاں، جو بھی شخص اس جیسا پیغام لے کر آیا اس سے دشمنی کی گئی، اور اگر میں اس دن تک زندہ رہا تو میں آپ کی بھرپور مدد کروں گا۔” لیکن کچھ ہی دنوں بعد ورقہ کا انتقال ہو گیا اور کچھ عرصے کے لیے وحی کا سلسلہ بھی رک گیا۔
صحیح بخاری حدیث نمبر 3 سے حاصل ہونے والے اسباق
صحیح بخاری حدیث نمبر 3 میں کئی اہم اسباق پوشیدہ ہیں جو ہر مسلمان کے لیے رہنمائی کا باعث ہیں:
- وحی کا آغاز سچے خوابوں سے ہوا، جو نبوت کی ابتدائی نشانی تھی۔
- نبی کریم ﷺ کو تنہائی اور عبادت کی طرف رغبت دی گئی، جو ذکرِ الٰہی کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
- علم اور پڑھنے کی اہمیت واضح ہوتی ہے، کیونکہ وحی کا پہلا لفظ ہی “اقرأ” یعنی “پڑھو” تھا۔
- حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی حکمت، تسلی اور ساتھ دینے کا انداز ازدواجی زندگی میں باہمی تعاون کی بہترین مثال ہے۔
- ورقہ بن نوفل کا واقعہ بتاتا ہے کہ اہلِ کتاب بھی نبی آخر الزماں ﷺ کی نشانیوں کو پہچانتے تھے۔نتیجہ
خلاصہ یہ کہ صحیح بخاری حدیث نمبر 3 اسلامی تاریخ کی ایک بنیادی اور بے حد اہم حدیث ہے جس میں نبی کریم ﷺ پر نزولِ وحی کے آغاز، غارِ حرا کے واقعے اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی تسلی آمیز باتوں کا مکمل نقشہ کھینچا گیا ہے۔ اس حدیث کا مطالعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ علم، صبر اور اللہ پر توکل کس طرح انسان کی زندگی میں انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔ امید ہے کہ صحیح بخاری حدیث نمبر 3 کا یہ عربی متن، اردو ترجمہ اور تشریح آپ کے لیے مفید ثابت ہوگی۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال: صحیح بخاری حدیث نمبر 3 کس بارے میں ہے؟ جواب: یہ حدیث نبی کریم ﷺ پر وحی کے آغاز اور غارِ حرا کے واقعے کے بارے میں ہے، جسے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے روایت کیا ہے۔
سوال: صحیح بخاری حدیث نمبر 3 کس کتاب میں شامل ہے؟ جواب: یہ حدیث “کتاب بدء الوحی” یعنی وحی کے آغاز کی کتاب میں شامل ہے۔
سوال: اس حدیث میں وحی کا پہلا لفظ کیا تھا؟ جواب: وحی کا پہلا لفظ “اقرأ” یعنی “پڑھو” تھا، جو سورۃ العلق کی ابتدائی آیات میں مذکور ہے۔




























