حدیث نمبر 1 — عربی متن
عربی:
إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ إِلَى امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ
راوی: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ
کتاب: کتاب بدء الوحی (وحی کی ابتدا کا بیان)
حدیث نمبر: 1، جلد 1
اردو ترجمہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔ پس جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو، اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ہی کی طرف شمار ہوگی، اور جس کی ہجرت دنیا کمانے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہو، تو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہوگی جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔”
مختصر تشریح
یہ حدیث اسلام کی بنیادی ترین احادیث میں سے ایک ہے، اسی لیے امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتاب کی سب سے پہلی حدیث بنایا۔ اس کا پیغام یہ ہے کہ کسی بھی عمل کی قبولیت اور اجر کا دارومدار اس کے پیچھے کی نیت پر ہے — چاہے وہ نماز ہو، صدقہ ہو، یا کوئی اور نیک کام، اگر نیت خالص اللہ کے لیے نہ ہو تو اس کا وہ اجر نہیں ملتا جو نیک نیتی سے کیے گئے عمل کا ملتا ہے.
Read More: Sahih Bukhari in Urdu complete PDF free download
d




























