Many readers search for Sahih Bukhari Hadees 9 in Urdu to learn how big faith really is. This short hadith tells us that faith is not only a feeling in the heart. It has many parts, and one of them is modesty, called “haya”. In this article, you will find the Arabic text and the meaning in Urdu, Hindi, and English. You will also see the exact hadith number, the other books that report it, and simple lessons for daily life.
Sahih Bukhari Hadees 8 in Urdu: Islam Ki Bunyad 5 Cheezon Par
Sahih Bukhari Hadees 9 in Urdu: عربی متن اور تین زبانوں میں ترجمہ
عربی متن
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ»
اردو ترجمہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “ایمان کے ساٹھ سے زائد حصے ہیں، اور شرم و حیا بھی ایمان ہی کا ایک حصہ ہے۔”
हिंदी अनुवाद
हज़रत अबू हुरैरा (रज़ि०) बयान करते हैं कि नबी ﷺ ने फ़रमाया: “ईमान की साठ से कुछ अधिक शाखाएँ हैं, और हया (लज्जा) उनमें से एक शाखा है।”
English Translation
Abu Huraira (may Allah be pleased with him) reported that the Prophet ﷺ said: “Faith has a little over sixty parts, and modesty (haya) is one of them.”
(تینوں ترجمے مفہوم کے طور پر اپنے الفاظ میں لکھے گئے ہیں۔ شائع کرنے سے پہلے کسی عالم سے نظرِ ثانی کروا لیں۔ Translation to be reviewed by a scholar.)
حدیث کا حوالہ اور تخریج
| چیز | تفصیل |
|---|---|
| کتاب | کتاب الایمان |
| باب | باب: امور الایمان (ایمان کے کاموں کا بیان)، یہ ابواب کی ترتیب میں تیسرا باب ہے |
| حدیث نمبر (باقی نمبرنگ) | 9 |
| ان-بُک نمبر | کتاب 2، حدیث 2 |
| راوی (صحابی) | حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ |
| سند | عبداللہ بن محمد، ابو عامر العقدی، سلیمان بن بلال، عبداللہ بن دینار، ابو صالح، اور آگے ابو ہریرہ |
| متفق علیہ | بخاری 9 اور مسلم 35 دونوں میں ہے |
| دوسری کتابوں میں | ابو داؤد 4676، ترمذی 2614، ابن ماجہ 57، نسائی (نمبر ایڈیشن کے لحاظ سے 5004 سے 5007 کے درمیان) |
| درجہ | صحیح (صحیح بخاری کی روایت؛ ترمذی نے بھی اسے حسن صحیح کہا) sunnah.com +5 |
نمبرنگ کا نوٹ: باقی نمبر اور پرانی نمبرنگ
اس حدیث کا حوالہ دیتے وقت “صحیح بخاری 9” لکھیں۔ یہ باقی (Baqi) نمبرنگ ہے۔ آپ کو اس کے ساتھ کتاب 2، حدیث 2 والا ان-بُک نمبر بھی نظر آئے گا۔ پرانی نمبرنگ “Vol. 1, Book 2, Hadith 9” ہے۔ sunnah.com اسے خود deprecated (متروک) کہتا ہے۔ sunnah
ایک عام الجھن
بعض آن لائن صفحات “Sahih Bukhari Volume 1, Book 2, Hadith Number 8” کے عنوان سے ایمان کی ساٹھ سے زیادہ شاخوں والی حدیث دکھاتے ہیں۔ مگر باقی نمبرنگ میں یہ حدیث 9 ہے۔ حدیث 8 “اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر” والی ہے۔ ان دونوں کو گڈمڈ نہ کریں۔ hadithcollection
تشریح: ایمان صرف دل کی بات نہیں
“بِضْع” کا مطلب
عربی لفظ “بضع” تین سے نو تک کی گنتی کو کہتے ہیں۔ ترمذی کی ایک شرح میں بھی یہی لغوی وضاحت ملتی ہے کہ بضع تین سے نو کے درمیان کا عدد ہے۔ یعنی “بضع وستون” کا مطلب ہے ساٹھ سے کچھ اوپر۔
“شُعبہ” کا مطلب
شعبہ کا مطلب شاخ یا حصہ ہے۔ جیسے درخت کی کئی شاخیں ہوتی ہیں، ویسے ہی ایمان کے کئی حصے ہیں۔ ان میں دل کا یقین، زبان کا اقرار، اچھے اخلاق اور نیک اعمال سب آتے ہیں۔ یہ اہلِ سنت کے علماء کی عام تشریح ہے۔
سب سے اونچی اور سب سے چھوٹی شاخ
صحیح بخاری 9 کے متن میں صرف حیا والا ٹکڑا آتا ہے۔ سب سے اونچی اور سب سے نچلی شاخ کا ذکر صحیح مسلم 35 میں ہے۔ وہاں آیا ہے کہ سب سے افضل شاخ “لا الہ الا اللہ” کا اقرار ہے اور سب سے ادنیٰ شاخ راستے سے تکلیف دینے والی چیز ہٹانا ہے، اور حیا بھی ایمان کی شاخ ہے۔
اس سے ہمیں ایک بڑا سبق ملتا ہے۔ ایمان کی ایک طرف توحید کی بلندی ہے، اور دوسری طرف لوگوں کے لیے راستہ صاف کرنے جیسی چھوٹی نیکی۔ دونوں ایمان کا حصہ ہیں۔
حیا کیا ہے؟
حیا ایک جامع لفظ ہے۔ اس میں شرم، وقار، ادب اور برے کام سے رک جانے کا جذبہ شامل ہے۔ علماء بیان کرتے ہیں کہ حیا انسان کو گناہ سے روکنے میں مدد دیتی ہے۔ نبی ﷺ نے خاص طور پر حیا کا ذکر کیا، کیونکہ ایسی صفت دل اور کردار دونوں کو سنوارتی ہے۔ حیا صرف لباس کا نام نہیں، یہ زبان، نظر، کمائی، سوشل میڈیا اور کاروباری معاملات میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔
امام بخاری نے اسے یہاں کیوں رکھا؟
کتاب الایمان کے اس باب “امور الایمان” میں صرف یہی ایک حدیث (حدیث 9) آتی ہے۔ یہ باب اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایمان کے بہت سے کام اور شعبے ہیں۔ شروحاتِ بخاری میں اس بارے میں ائمہ نے تفصیل سے لکھا ہے۔ (Fath al-Bari یا کسی مستند شرح سے خاص عبارت لے کر شائع کرنے سے پہلے verify before publishing۔)
مختلف روایات کے الفاظ میں فرق
| روایت | الفاظ کا فرق |
|---|---|
| بخاری 9 | “بضع وستون” (ساٹھ سے کچھ اوپر) اور حیا کا ذکر |
| مسلم 35 | “ستر یا ساٹھ سے کچھ اوپر”، سب سے افضل اور سب سے ادنیٰ شاخ کا ذکر، اور حیا |
| ابو داؤد 4676 | “ساٹھ (یا ستر)” شاخیں، افضل اور ادنیٰ شاخ کے ذکر کے ساتھ |
| نسائی | بعض روایات میں “ستر سے کچھ اوپر” اور حیا کا ذکر صحيح مسلم Sahih Muslim كتاب الإيمان The Book of Faith +2 |
اس فرق کا کیا مطلب ہے؟ یہ ساری روایات صحیح ہیں۔ الفاظ میں “ساٹھ” یا “ستر” کا فرق راویوں کے الفاظ کا ہے، اور امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے یہ حدیث الفاظ کے فرق کے ساتھ روایت کی ہے۔ “بضع” کا لفظ کثرت اور وسعت بتاتا ہے، اور گنتی کو ایک سخت حد بنانا ضروری نہیں۔ (اس نکتے پر کسی شرح کا حوالہ شامل کرنے سے پہلے verify before publishing۔)
روزمرہ زندگی کے سبق
- ایمان بڑا ہے: صرف نماز روزے کو ہی نہیں، اپنے اخلاق، معاملات اور سلوک کو بھی ایمان کا حصہ سمجھیں۔
- چھوٹی نیکی کو چھوٹا نہ سمجھیں: راستے سے پتھر یا کیلا ہٹا دینا بھی ایمان کی شاخ ہے۔ دفتر، گلی یا دکان کے سامنے صفائی رکھنا بھی نیکی ہے۔
- حیا کو اپنائیں: بات چیت، پہناوے، آن لائن رویے اور لین دین میں شائستگی رکھیں۔
- حیا مردوں کے لیے بھی ہے: حدیث میں عام الفاظ ہیں، اس لیے یہ ہر مسلمان کے لیے ہے۔
- اپنا جائزہ لیں: دیکھیں کہ ایمان کی کون سی شاخ مضبوط ہے اور کس پر محنت کی ضرورت ہے۔
- دوسروں کے لیے آسانی بنیں: کاروبار یا نوکری میں ایسا طریقہ اپنائیں جس سے لوگوں کو تکلیف نہ پہنچے۔
عام غلطیاں اور غلط فہمیاں
1. “ایمان کی صرف 60 شاخیں ہیں”
حدیث کے الفاظ “ساٹھ سے کچھ اوپر” ہیں۔ دوسری روایات میں “ستر سے کچھ اوپر” بھی آیا ہے۔ اس لیے گنتی کو ایک بند فہرست نہ سمجھیں۔
2. “بخاری 9 میں لا الہ الا اللہ اور راستے سے تکلیف ہٹانے کا ذکر ہے”
یہ حصے بخاری 9 کے متن میں نہیں، مسلم 35 (اور دوسری کتب) میں ہیں۔ بخاری 9 میں صرف حیا والا ٹکڑا ہے۔ آرٹیکل لکھتے وقت یہ فرق ضرور رکھیں۔
3. “حیا صرف عورتوں کی صفت ہے”
حدیث ہر مسلمان سے خطاب کرتی ہے۔ حیا مرد و عورت دونوں کی ذمہ داری ہے۔
4. “حدیث 8 اور 9 ایک ہی ہیں”
نہیں۔ حدیث 8 اسلام کے پانچ ارکان کی ہے، اور حدیث 9 ایمان کی شاخوں کی۔
5. “یہ ایمان کی تمام شاخوں کی مکمل فہرست ہے”
نہیں۔ علماء نے ایمان کی شاخیں گننے کے لیے الگ کتابیں لکھی ہیں (جیسے امام بیہقی کی “شعب الایمان”)، اور ان کی فہرستوں میں فرق ملتا ہے۔ حدیث نے خود کوئی مکمل فہرست نہیں دی۔
Frequently Asked Questions (FAQs)
1. What does Sahih Bukhari Hadees 9 say?
It says that faith has a little over sixty parts, and modesty (haya) is one of them.
2. Who narrated this hadith?
It was narrated by Abu Huraira, may Allah be pleased with him.
3. Is Sahih Bukhari Hadees 9 authentic?
Yes. It is in Sahih Bukhari and also in Sahih Muslim, so it is called “agreed upon”. Abu Dawud, Tirmidhi, Nasai, and Ibn Majah also report it.
4. Is it “sixty” or “seventy” branches?
Bukhari says “a little over sixty”. Some narrations in other books say “a little over seventy”, and some have “sixty or seventy”. The word used means a number between three and nine, so all of them point to a large number of branches.
5. Which branch is the highest and which is the lowest?
This detail is not in the text of Bukhari 9. It is in Sahih Muslim 35. The highest is saying “La ilaha illallah”, and the lowest is removing something harmful from the road.
6. What is “haya”?
Haya means modesty, shame, and good manners. It helps a person stay away from wrong things. It is for both men and women.
7. Is this the same as Bukhari Hadith 8?
No. Hadith 8 is about the five pillars of Islam. Hadith 9 is about the branches of faith.
8. What is the correct way to write this hadith number?
Write “Sahih Bukhari 9”. You can add “Book 2, Hadith 2” as the in-book number. Avoid the old “Volume and Book” style.
Conclusion
Sahih Bukhari Hadees 9 in Urdu teaches us that faith is wide and deep. It has many branches, from the highest belief to the smallest good deed, and haya is one of them. We should not limit faith to words only.
Let us improve our manners, our speech, and our work, and make life easy for others. Always write the hadith number correctly: Sahih Bukhari 9. For any question about rulings, please ask a qualified scholar.


