Sahih Bukhari Hadees 2 in Urdu اسلامی علوم کا ایک نہایت اہم اور بنیادی حصہ ہے، جو ہمیں نبی اکرم ﷺ پر وحی کے نزول اور اس کی مختلف کیفیتوں کی تفصیل بتاتا ہے۔ امام محمد بن اسماعیل البخاریؒ نے اپنی مایہ ناز کتاب صحیح البخاری کے پہلے باب “بدء الوحی” (وحی کی ابتدا) میں اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ اس مضمون میں ہم صحیح بخاری حدیث 2 کا عربی متن، اردو ترجمہ، English Translation، اور اس کی تفصیلی تشریح پیش کر رہے ہیں۔
حدیث کی تفصیلات اور باب (Hadith Reference & Chapter Information)
| عنوان / صفات | تفصیلات |
| کتاب کا نام | صحیح البخاری (صحيح البخاري) |
| کتاب نمبر | 1 (کتاب بدء الوحی / وحی کی ابتدا کا بیان) |
| باب کا نام | كَيْفَ كَانَ بَدْءُ الْوَحْيِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (رسول اللہ ﷺ پر وحی کی ابتدا کیسے ہوئی) |
| حدیث نمبر | 2 |
| راوی (مبارک) | ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا |
| سند (Chain of Narration) | عبد اللہ بن یوسف ← مالک ← ہشام بن عروہ ← عروہ ← حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) |
1. عربی متن (Arabic Text of Sahih Bukhari Hadees 2)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ ـ رضى الله عنه ـ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْىُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: “أَحْيَانًا يَأْتِينِي مِثْلَ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ، وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ، فَيُفْصَمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْهُ مَا قَالَ، وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِي الْمَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ”. قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْىُ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ، فَيَفْصِمُ عَنْهُ وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا.
2. اردو ترجمہ (Sahih Bukhari Hadees 2 Urdu Translation)
ترجمہ:
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ ہمیں مالک نے ہشام بن عروہ سے خبر دی، انہوں نے اپنے والد (عروہ) سے روایت کی، انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ حضرت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا:
“یا رسول اللہ! آپ پر وحی کس طرح نازل ہوتی ہے؟”
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“کبھی وحی مجھ پر گھنٹی کی آواز (صلصلۃ الجرس) کی طرح آتی ہے اور یہ کیفیت مجھ پر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے، پھر جب یہ سلسلہ ختم ہوتا ہے تو جو کچھ فرشتے نے کہا ہوتا ہے وہ مجھے یاد ہو چکا ہوتا ہے۔ اور کبھی فرشتہ میرے سامنے ایک مرد کی صورت میں آتا ہے اور مجھ سے بات کرتا ہے، تو جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد رکھ لیتا ہوں۔”
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
“میں نے سخت سردی کے دن میں بھی نبی ﷺ پر وحی نازل ہوتے دیکھی، جب وحی کا سلسلہ ختم ہوتا تو آپ ﷺ کی پیشانی مبارک سے پسینے کے قطرے ٹپک رہے ہوتے تھے۔”
3. انگریزی ترجمہ (English Translation of Sahih Bukhari Hadith 2)
Translation:
Narrated ‘Aisha (Mother of the Faithful Believers): Al-Harith bin Hisham asked Allah’s Messenger (ﷺ),
“O Allah’s Messenger! How is the Divine Inspiration revealed to you?”
Allah’s Messenger (ﷺ) replied:
“Sometimes it is revealed like the ringing of a bell; this form of Inspiration is the hardest of all, and then this state passes off after I have grasped what is inspired. Sometimes the Angel comes in the form of a man and talks to me, and I grasp whatever he says.”
‘Aisha added:
“Verily I saw the Prophet (ﷺ) being inspired Divinely on a very cold day and noticed the sweat dropping from his forehead as the Inspiration was over.”
تفسیر و تفصیلی تشریح (Detailed Explanation in Urdu)
اس حدیث مبارکہ میں وحی کی دو بنیادی اور اہم صورتوں (Modes of Revelation) کا ذکر کیا گیا ہے:
1. صلصلۃ الجرس (گھنٹی کی آواز کی طرح):
یہ وحی کی سب سے سخت اور بھاری کیفیت ہوتی تھی۔ اس حالت میں فرشتہ اپنی اصل روحانی کیفیت میں پیغام منتقل کرتا تھا، جس کے جلال اور بوجھ کی وجہ سے آپ ﷺ کی مبارک ذات پر شدید جسمانی اثرات مرتب ہوتے تھے۔ سخت کڑکتی سردی کے موسم میں بھی آپ ﷺ کی پیشانی مبارک سے پسینے کی بوندیں جاری ہو جاتی تھیں۔
2. فرشتے کا انسانی صورت میں آنا:
اس صورت میں حضرت جبرائیل علیہ السلام اکثر صحابیِ رسول حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی صورت میں تشریف لاتے تھے اور عام گفتگو کے انداز میں پیغام پہنچاتے تھے، جسے حاصل کرنا نسبتاً آسان ہوتا تھا۔




























