Many people ask one simple question before a deal: property khareedne aur bechne par tax kitna lagta hai? The answer depends on one big thing, and that is your filer status. In Pakistan, buyers and sellers pay different taxes, and the rates are very different for filers and non-filers. After the Budget 2026-27, many rates have become lower. In this guide, you will learn about every tax in easy words, with real examples, so you do not pay more than you should.
Plot Khareedne se pehle 12 cheezein zaroor check karein
Property Khareedne Aur Bechne Par Tax Kitna Lagta Hai?
مختصر جواب یہ ہے:
- خریدار پر Section 236K کا advance tax لگتا ہے۔ Active Taxpayer List (ATL) میں شامل خریدار کے لیے یہ 1.25% ہے، جبکہ non-filer کے لیے 10.5% سے 18.5% تک ہے۔
- بیچنے والے پر Section 236C کا tax لگتا ہے۔ Filer کے لیے یہ 2.75% اور non-filer کے لیے 11.5% ہے۔ mytaxcalculator
- بیچنے والے کو منافع پر capital gains tax بھی دینا پڑ سکتا ہے۔
- اس کے علاوہ صوبائی stamp duty اور رجسٹری فیس الگ ہوتی ہے۔
یعنی صرف ایک ٹیکس نہیں لگتا۔ کئی چھوٹے بڑے چارجز مل کر کل خرچ بنتے ہیں۔
Filer Aur Non-Filer Ka Farq Kyun Zaroori Hai?
FBR ہر شخص کو Active Taxpayer List (ATL) کی بنیاد پر filer یا non-filer مانتا ہے۔ جائیداد کا چالان بنانے سے پہلے اپنا اسٹیٹس چیک کرنا سب سے پہلا کام ہے۔
فرق بہت بڑا ہے۔ ایک کروڑ روپے کی جائیداد پر خریدار کا tax یہ بنتا ہے:
| Filer | Non-Filer | |
|---|---|---|
| خریدار (236K) | 1,25,000 روپے | 10,50,000 روپے |
| بیچنے والا (236C) | 2,75,000 روپے | 11,50,000 روپے |
یعنی non-filer کو کئی گنا زیادہ ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ اس لیے سودے سے پہلے filer بننا اکثر سستا پڑتا ہے۔ اوورسیز پاکستانی بھی مطلوبہ شرائط پوری کر کے filer کے برابر rate حاصل کر سکتے ہیں۔
Property Kharidne Par Tax: Buyer Ke Liye 236K Aur Dusre Kharche
Section 236K کیا ہے؟
یہ خریدار کا advance withholding tax ہے جو رجسٹری یا انتقال کے وقت جمع ہوتا ہے۔ فائلر کے لیے یہ اب flat 1.25% ہے۔ پہلے یہ tier والے rates میں تھا، جہاں 50 ملین تک کی جائیداد پر 1.5% اور اس سے اوپر زیادہ rates تھے۔
Non-filer کے rates قیمت کے حساب سے ہیں:
- 5 کروڑ تک: 10.5%
- 5 کروڑ سے 10 کروڑ تک: 14.5%
- 10 کروڑ سے اوپر: 18.5%
ٹیکس کس قیمت پر لگتا ہے؟
یہاں ایک اہم بات ہے۔ ٹیکس کی بنیاد آپ کے سیل ڈیڈ کی قیمت اور FBR کی مقرر کردہ ویلیو میں سے جو زیادہ ہو وہ بنتی ہے۔ یعنی کاغذ پر کم قیمت لکھوانے سے 236K کم نہیں ہوتا۔ DC rate اور FBR rate کا فرق سمجھنا اس لیے بہت ضروری ہے۔
خریدار کے دوسرے کھاتے
- Stamp duty: یہ صوبائی ہے۔ ایک ذریعے کے مطابق پنجاب اور اسلام آباد میں تقریباً 1% اور سندھ میں 2% ہے۔
- رجسٹری اور انتقال کی فیس: ہر ادارے کی اپنی فیس ہوتی ہے۔
- CVT: بعض ذرائع میں 2% کا ذکر ملتا ہے، لیکن یہ صوبے اور وقت کے حساب سے بدل سکتا ہے۔ رجسٹری سے پہلے متعلقہ دفتر سے تصدیق کر لیں۔
- Section 7E ختم ہو چکا ہے: پہلے خالی جائیداد رکھنے پر بھی سالانہ deemed income tax کا خطرہ تھا۔ Finance Act 2026 نے Section 7E ختم کر دیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق مئی 2026 میں وفاقی آئینی عدالت نے بھی اسے غیر آئینی قرار دیا تھا۔
- FED: ایک رپورٹ کے مطابق 7% FED بھی ختم ہو گیا ہے۔
Property Bechne Par Tax: Seller Ke Liye 236C Aur Capital Gains Tax
Section 236C کیا ہے؟
یہ بیچنے والے کا advance tax ہے۔ FBR کی budget کے خلاصے کے مطابق 236C کو flat 2.75% کر دیا گیا ہے۔ پہلے یہ فائلر کے لیے 4.5% سے 5.5% تک تھا۔ یہ tax فروخت کی پوری رقم پر لگتا ہے، منافع پر نہیں۔
ایک کروڑ میں بیچنے پر 2,75,000 روپے بنتے ہیں۔
Capital Gains Tax (CGT) کیا ہے؟
یہ ٹیکس منافع پر لگتا ہے، پوری قیمت پر نہیں۔ اصول یہ ہیں:
- جائیداد یکم جولائی 2024 یا اس کے بعد خریدی ہو: Filer کے لیے منافع کا 15% flat ہے، چاہے جائیداد کتنی بھی دیر رکھی ہو۔
- Non-filer: عام slab rates لگتے ہیں اور کم از کم 15% ہے۔
- پرانی جائیداد (30 جون 2024 سے پہلے خریدی ہوئی): اس پر holding period کے حساب سے رعایت ملتی ہے۔ مختلف ذرائع کے مطابق تعمیر شدہ جائیداد چار سال رکھنے پر اور کھلے پلاٹ چھ سال رکھنے پر CGT صفر ہو سکتا ہے۔ اپنی تاریخِ خرید کے حساب سے وکیل یا ٹیکس ماہر سے تصدیق ضرور کریں۔
مثال سے سمجھیں
فرض کریں آپ نے 80 لاکھ میں پلاٹ لیا اور ایک کروڑ میں بیچا۔ منافع 20 لاکھ ہے۔
- CGT (15%): 3,00,000 روپے
- 236C (2.75% پوری رقم پر): 2,75,000 روپے
عام طور پر filer کے لیے advance tax کو آخر میں سالانہ ریٹرن میں adjust کیا جا سکتا ہے۔ آپ کا اصل ٹیکس اس کے بعد طے ہوتا ہے۔ اس کا حساب اپنے ٹیکس ایڈوائزر سے کروائیں۔
Property Khareedne Aur Bechne Par Tax Kitna Lagta Hai: Kul Kharch Ka Andaza
آپ کو مکمل تصویر دینے کے لیے ایک فرضی مثال لیتے ہیں۔ ایک filer پنجاب میں ایک کروڑ کی جائیداد خریدتا ہے:
| خرچ | تقریباً رقم |
|---|---|
| 236K (1.25%) | 1,25,000 روپے |
| Stamp duty (تقریباً 1%) | 1,00,000 روپے |
| رجسٹری اور انتقال کی فیس | رقم ادارے کے حساب سے |
کل خرچ کا اندازہ لگاتے وقت پراپرٹی ڈیلر کا کمیشن، وکیل کی فیس اور دوسری مقامی فیسیں بھی شامل کریں۔ یہ ایک اندازہ ہے۔ حتمی رقم متعلقہ دفتر اور ٹیکس ماہر سے ہی معلوم کریں۔
Tax Bachane Ke Chakkar Mein Yeh Ghaltiyan Mat Karein
- کاغذ پر کم قیمت لکھوانا: FBR اور DC ویلیو دیکھ کر ٹیکس لگتا ہے، اس لیے فائدہ نہیں ہوتا اور آگے مسئلہ بن سکتا ہے۔
- Filer بنے بغیر سودا کرنا: non-filer rates بہت مہنگے ہیں۔
- نقد ادائیگی پر انحصار: ہمیشہ بینک کے ذریعے ادائیگی کریں اور رسیدیں رکھیں۔
- پرانی معلومات پر سودا: پرانی ویب سائٹس پر 2024 یا 2025 کے rates ملتے ہیں۔ ہمیشہ FBR کی ویب سائٹ سے تازہ rates دیکھیں۔
- خود حساب نہ کرنا: بڑی رقم میں ایک غلطی لاکھوں کا نقصان کر سکتی ہے۔
نوٹ: یہ تحریر عمومی معلومات کے لیے ہے، ٹیکس یا قانونی مشورہ نہیں۔ ٹیکس کے rates بجٹ کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں، اس لیے سودے سے پہلے FBR کی ویب سائٹ دیکھیں اور ٹیکس ایڈوائزر یا وکیل سے مشورہ کریں۔
FAQs
Q1. What is the tax on buying property in Pakistan?
For a filer, the buyer pays 1.25% advance tax under Section 236K. A non-filer pays much more, between 10.5% and 18.5%, based on the property value. Stamp duty and registration fees are extra.
Q2. What is the tax on selling property in Pakistan?
A filer pays 2.75% under Section 236C on the sale price. A non-filer pays 11.5%. If you made a profit, you may also pay capital gains tax.
Q3. What is the difference between 236K and 236C?
Section 236K is paid by the buyer. Section 236C is paid by the seller. Both are advance taxes that you pay when the property is transferred.
Q4. How much is capital gains tax on property?
For property bought on or after 1 July 2024, a filer pays a flat 15% on the profit. A non-filer pays at normal slab rates, but not less than 15%. Older property may get relief based on how long you held it.
Q5. Why is the filer status so important?
Because the tax for a non-filer is many times higher. On a property of one crore rupees, a filer buyer pays about 1.25 lakh in advance tax, while a non-filer buyer pays about 10.5 lakh.
Q6. Do I pay tax on the deed price or the government value?
You pay on the higher of the two, the deed price or the FBR value. So writing a low price on paper does not reduce your tax.
Q7. Is Section 7E still applied?
No. Section 7E was removed by the Finance Act 2026, so the yearly deemed income tax on property is not applied for FY 2026-27.
Q8. Can overseas Pakistanis get filer rates?
Yes, they can get filer-equal rates if they complete the FBR process and meet the conditions. They should check the latest rules before the deal.
Conclusion
Now you know the answer to property khareedne aur bechne par tax kitna lagta hai. For a filer, the buyer pays 1.25%, and the seller pays 2.75%, and a seller may also pay 15% capital gains tax on the profit. For a non-filer, the tax is many times higher. Stamp duty and registration fees are also extra. So before you sign any deal, check your filer status, find the correct FBR value, and ask a tax adviser to do the final calculation. A little planning today can save you lakhs of rupees tomorrow.

















