Nikah Ka Sunnat Tarika

Nikah Ka Sunnat Tarika

Getting married is one of the most special events in a Muslim’s life. In Islam, marriage is called Nikah, and the Prophet Muhammad (ﷺ) taught us a special sunnat tarika, or way, to do it. When a couple follows the Nikah Ka Sunnat Tarika, their marriage starts with blessings, stays simple, and becomes strong from the very first day. In this article, we will explain every step of the sunnah way of Nikah in easy Urdu, so every reader can understand it clearly and follow it in real life.

نکاح کیا ہے اور اسلام میں اس کی کیا اہمیت ہے؟

نکاح دراصل عورت اور مرد کے درمیان ایک حلال اور مقدس رشتہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطری ضرورت پوری کرنے کے لیے جائز قرار دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے خود ارشاد فرمایا کہ نکاح میری سنت ہے، اور جو میری سنت سے منہ موڑے وہ مجھ سے نہیں ہے۔ اس حدیث سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ نکاح کو اسلام میں کتنی اہمیت دی گئی ہے۔

نکاح صرف دو انسانوں کو جوڑنے کا نام نہیں بلکہ یہ نصف دین کی تکمیل کا ذریعہ بھی ہے۔ حدیث مبارکہ میں آیا ہے کہ جس شخص نے نکاح کر لیا اس نے اپنے آدھے دین کو مکمل کر لیا، اب باقی آدھے دین کے لیے اسے اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ نکاح کا سنت طریقہ (Nikah Ka Sunnat Tarika) اپنانا ہر مسلمان مرد و عورت کے لیے ایک عبادت کی حیثیت رکھتا ہے، نہ کہ محض ایک رسمی تقریب۔

نکاح سے پہلے سنت آداب کیا ہیں؟

نکاح کا سلسلہ محض عقد کی مجلس سے شروع نہیں ہوتا بلکہ اس سے پہلے بھی کچھ سنت آداب موجود ہیں جن کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

  • رشتہ دیکھنا: اسلام میں لڑکا یا لڑکی کے ولی کو چاہیے کہ نکاح سے پہلے دونوں خاندانوں کے حالات، دینداری اور اخلاق کے بارے میں اچھی طرح تحقیق کر لیں۔
  • استخارہ کرنا: نکاح کا پیغام بھیجنے سے پہلے مستحب ہے کہ لڑکا یا اس کا ولی استخارہ کر لے، اسی طرح لڑکی والوں کو بھی استخارہ کے بعد ہی پیغام قبول کرنا چاہیے۔
  • دینداری کو ترجیح دینا: نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ نکاح میں مال، حسن اور خاندان کے بجائے دینداری کو ترجیح دو، ورنہ نقصان اٹھاؤ گے۔

نکاح کا سنت وقت اور دن کون سا ہے؟

نکاح کا سنت طریقہ صرف الفاظ تک محدود نہیں بلکہ اس میں وقت اور جگہ کی بھی اہمیت ہے۔ علماء کے مطابق:

  • جمعہ کا دن نکاح کے لیے مستحب ہے۔
  • عصر کی نماز کے بعد کا وقت زیادہ بابرکت سمجھا جاتا ہے۔
  • نکاح مسجد میں کرنا سنت طریقے کے قریب تر ہے، کیونکہ اس سے اجتماعیت اور برکت دونوں حاصل ہوتی ہیں۔
  • بارات میں تین چار سے زیادہ افراد لے جانے سے اجتناب کیا جائے تاکہ سادگی برقرار رہے۔

نکاح کے ارکان کیا ہیں؟

نکاح کے صحیح ہونے کے لیے کچھ بنیادی ارکان کا پورا ہونا ضروری ہے، ورنہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا۔

  1. زوجین کا وجود: یعنی لڑکا اور لڑکی دونوں موجود ہوں اور ان کا آپس میں نکاح جائز ہو، رضاعت، نسب یا عدت کی کوئی رکاوٹ نہ ہو۔
  2. ایجاب و قبول: ولی یا اس کے وکیل کی طرف سے پیشکش (ایجاب) اور لڑکے کی طرف سے قبولیت (قبول) کا پایا جانا۔

ان دو ارکان کے بغیر نکاح کسی صورت درست نہیں ہوتا، چاہے کتنی ہی بڑی تقریب کیوں نہ ہو۔

نکاح کی شرائط کیا ہیں؟

ارکان کے علاوہ نکاح کی دو اہم شرطیں بھی ہیں جن کا پورا ہونا لازمی ہے:

  • ولی کی اجازت: لڑکی کے ولی کی رضامندی کے بغیر نکاح مکمل نہیں سمجھا جاتا۔
  • دو عادل گواہوں کی موجودگی: نکاح کے وقت دو دیانت دار اور شرعی طور پر معتبر گواہوں کا ہونا ضروری ہے۔ فاسق یا بے نمازی افراد کو گواہ بنانے سے گریز کیا جائے۔

نکاح کا اعلان کرنا ضروری نہیں مگر مستحب ضرور ہے، تاکہ لوگوں کو معلوم ہو جائے اور شک و شبہ ختم ہو۔

خطبہ نکاح کا سنت طریقہ

خطبہ نکاح پڑھنا سنت ہے اور اسے سننا شرکاء کے لیے واجب سمجھا جاتا ہے، اس لیے خطبے کے دوران بات چیت کرنا مناسب نہیں۔ عام طور پر خطبہ نکاح میں یہ آیات پڑھی جاتی ہیں:

  • سورہ نساء کی پہلی آیت
  • سورہ آل عمران کی آیت نمبر 102
  • سورہ احزاب کی آیت نمبر 70-71
  • سورہ حجرات کی آیت نمبر 31

اس کے ساتھ حدیث مبارکہ “النکاح من سنتی” یعنی نکاح میری سنت ہے، کا ذکر بھی خطبے کا حصہ ہوتا ہے۔ خطبہ کے بعد اضافی لمبی تقریر کرنا سنت سے ثابت نہیں، اس لیے خطبہ مختصر اور بامعنی رکھنا بہتر ہے۔

مہر کی اہمیت اور سنت مقدار

مہر عورت کا حق ہے اور نکاح کے نتیجے میں یہ اس پر واجب ہو جاتا ہے۔ مہر نہ تو نکاح کا رکن ہے اور نہ ہی شرط، لیکن اسے طے کرنا اور ادا کرنا سنت اور دینی ذمہ داری ضرور ہے۔ فقہاء کے مطابق مہر کی کم از کم مقدار دس درہم یعنی تقریباً تیس گرام چاندی کے برابر بتائی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ہمیشہ آسان اور کم مہر کو پسند فرمایا، تاکہ نکاح میں لوگوں کے لیے آسانی رہے۔

ایجاب و قبول کا طریقہ

نکاح کی مجلس میں خطبہ مسنونہ پڑھنے کے بعد امام یا قاضی صاحب، جو لڑکی کے ولی کی طرف سے وکیل ہوتے ہیں، لڑکے سے کہتے ہیں کہ “میں اپنی وکالت میں فلانہ بنت فلاں کا نکاح آپ سے کرتا ہوں، کیا آپ کو قبول ہے؟” اس پر لڑکا کہتا ہے “مجھے قبول ہے”، اور اس طرح نکاح مکمل ہو جاتا ہے۔ خیال رہے کہ ایجاب و قبول میں مہر کی رقم کا الفاظ میں دہرانا ضروری نہیں، پہلے سے طے ہو جانا کافی ہے۔

نکاح کے بعد دعا اور مبارکباد

نکاح مکمل ہونے کے بعد دولہا دلہن کو مبارکباد دینا سنت ہے۔ نبی کریم ﷺ جب کسی کو نکاح کی مبارکباد دیتے تو یہ دعا پڑھتے:

بَارَکَ اللہُ لَکَ وَبَارَکَ عَلَیْکَ وَجَمَعَ بَیْنَکُمَا فِی خَیْرٍ

ترجمہ: اللہ تمہیں برکت دے، تم پر اپنی برکت نازل فرمائے، اور تم دونوں کو خیر کے ساتھ اکٹھا رکھے۔ اجتماعی طور پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کی بجائے انفرادی طور پر یہ دعا دینا سنت طریقے کے زیادہ قریب ہے۔

ولیمہ کا سنت طریقہ

ولیمہ یعنی نکاح کے بعد کا کھانا بھی سنت میں شامل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام کو ولیمہ کرنے کی تلقین فرمائی، مگر اس میں بھی سادگی اور حیثیت کے مطابق خرچ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ولیمہ میں غرباء کو بھی دعوت دینا اور فضول خرچی سے بچنا سنت طریقے کا حصہ ہے۔

نکاح میں سادگی اور فضول رسومات سے بچاؤ

آج کل معاشرے میں نکاح کے ساتھ کئی ایسی رسومات جڑ گئی ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، جیسے مہندی کی رات پر بھاری اخراجات، جہیز کا دباؤ، یا فضول نمود و نمائش۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سب سے زیادہ بابرکت نکاح وہ ہے جس میں سب سے کم خرچ ہو۔ اس لیے نکاح کا سنت طریقہ اپنانے کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہم غیر ضروری رسموں سے بچیں اور نکاح کو آسان بنائیں۔

نکاح میں عام غلطیاں جن سے بچنا ضروری ہے

  • گواہوں کی حیثیت اور دینداری کو نظر انداز کرنا
  • خطبہ نکاح کو محض رسمی سمجھ کر جلدی میں پڑھنا
  • مہر کو غیر ضروری طور پر بہت زیادہ یا بالکل نظر انداز کر دینا
  • نکاح کی تقریب کو غیر اسلامی رسومات کے ساتھ ملا دینا
  • ولی کی اجازت کے بغیر یا خاندان کے دباؤ میں آ کر جلدبازی میں فیصلہ کرنا

ان غلطیوں سے بچ کر اگر نکاح کیا جائے تو یہ حقیقی معنوں میں سنت کے مطابق اور بابرکت ثابت ہوتا ہے۔


Frequently Asked Questions (FAQs)

1. What is the Nikah Ka Sunnat Tarika in simple words? It means following the marriage steps that Prophet Muhammad (ﷺ) showed us, like reading the khutbah, having witnesses, giving mahr, and keeping the whole event simple.

2. What are the pillars (arkan) of Nikah? The two main pillars are the existence of the bride and groom (with no legal barrier between them) and the offer and acceptance, called ijab and qubool.

3. Is a witness necessary for Nikah? Yes, having two trustworthy and practicing Muslim witnesses is a condition for a valid Nikah in Islam.

4. What is mahr, and is it compulsory? Mahr is the right of the wife that becomes due because of the marriage contract. It is not a pillar of Nikah, but paying it is a religious duty on the husband.

5. Which day is best for Nikah according to Sunnah? Friday, especially after Asr prayer, is considered a blessed time for Nikah, and doing it in a mosque is also recommended.

6. Is a big walima party required in Islam? No. Walima should be done according to one’s means. Islam encourages simplicity and discourages heavy spending or showing off during marriage.

Tayammum ka Tarika in Urdu

Conclusion

Marriage is a beautiful gift, and Islam has made it easy for everyone through clear and simple rules. When a couple follows the Nikah Ka Sunnat Tarika, from choosing a partner with good character, reading the khutbah, giving mahr, having proper witnesses, to keeping the walima simple, their marriage becomes full of blessings and free from unnecessary burden. Every Muslim who wants a happy and blessed married life should try to follow this sunnah way step by step, instead of following heavy customs that have no place in Islam.