Namaz e Janaza Ka Tarika

Namaz e Janaza Ka Tarika

نمازِ جنازہ کی شرعی اہمیت اور فرضیت

اسلام میں کسی بھی مسلمان کی وفات پر اس کی نمازِ جنازہ پڑھنا فرضِ کفایہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر بستی یا علاقے کے چند افراد بھی یہ نماز ادا کر لیں تو پوری آبادی کی طرف سے یہ فرض ادا ہو جاتا ہے، لیکن اگر کوئی ایک شخص بھی جنازہ نہ پڑھے تو تمام اہل علاقے گنہگار ہوتے ہیں۔

نمازِ جنازہ دراصل مرحوم کے لیے ایک اجتماعی دعا ہے۔ اس نماز کے ذریعے زندہ مسلمان اپنے مرحوم بھائی یا بہن کی مغفرت، درجات کی بلندی اور قبر کے عذاب سے نجات کے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں التجا کرتے ہیں۔ اس اجتماعی عبادت سے نہ صرف مرحوم کو فائدہ پہنچتا ہے بلکہ شامل ہونے والے حضرات کو بھی عظیم ثواب حاصل ہوتا ہے۔

حدیث کا پس منظر اور فضیلت

نبی اکرم ﷺ نے نمازِ جنازہ کی ادائیگی اور اس میں شامل ہونے پر عظیم ثواب کی بشارت دی ہے۔ حدیثِ مبارکہ میں آیا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کے جنازے میں ایمان اور ثواب کی نیت سے شامل ہوتا ہے اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھتا ہے، اسے ایک “قیراط” کے برابر ثواب ملتا ہے۔ اور جو شخص جنازہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کی تدفین (دفنانے) تک ساتھ رہتا ہے، اسے دو “قیراط” کے برابر ثواب ملتا ہے۔

صحابه کرام رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا: “یا رسول اللہ! دو قیراط سے کیا مراد ہے؟” آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: “دو عظیم پہاڑوں کے برابر ثواب، جن میں سے چھوٹا پہاڑ احد پہاڑ کے برابر ہے۔” اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ جنازے میں شامل ہونا کتنا باعثِ ثواب عمل ہے۔

مرکزی حدیث: جنازے کی فضیلت (عربی، اردو اور انگریزی ترجمہ)

عربی متن

مَنْ شَهِدَ الْجَنَازَةَ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَ حَتَّى تُدْفَنَ كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ. قِيلَ: وَمَا الْقِيرَاطَانِ؟ قَالَ: مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ.

اردو ترجمہ

“جو شخص جنازے میں حاضر ہو یہاں تک کہ اس پر نماز پڑھی جائے تو اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہے، اور جو شخص اس کی تدفین تک حاضر رہے تو اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے۔ عرض کیا گیا: ‘دو قیراط کیا ہیں؟’ آپ ﷺ نے فرمایا: ‘دو بڑے پہاڑوں کے برابر۔'”

انگریزی ترجمہ (Hadees in English)

“Whosoever attends the funeral procession until the funeral prayer is offered will have a reward of one Qirat, and whosoever accompanies the funeral until the burial is completed will have two Qirat. It was asked: ‘What are two Qirat?’ The Prophet (peace be upon him) replied: ‘Like two huge mountains.'”

صحیح حدیث کا حوالہ

  • کتاب: صحیح بخاری / صحیح مسلم

  • حدیث نمبر: صحیح بخاری 1325، صحیح مسلم 945

نمازِ جنازہ کا طریقہ (قدم بہ قدم)

نمازِ جنازہ میں دو فرض اور تین سنتیں ہوتی ہیں۔ دو فرض یہ ہیں:

  1. قیام: کھڑے ہو کر نماز ادا کرنا (اگر کوئی عذر نہ ہو)۔

  2. چار تکبیرات: چار مرتبہ “اللہ اکبر” کہنا۔

نیچے قدم بہ قدم نمازِ جنازہ کا طریقہ بیان کیا گیا ہے:

پہلا قدم: نیت کرنا

سب سے پہلے دل میں نیت کریں۔ نیت کے الفاظ یہ ہیں:

“نیت کی میں نے اس نمازِ جنازہ کی، 4 تکبیروں کے ساتھ، ثنا اللہ تعالیٰ کے لیے، درود رسول اللہ ﷺ کے لیے، دعا اس میت کے لیے، پیچھے اس امام کے، منہ میرا کعبہ شریف کی طرف۔”

دوسرا قدم: پہلی تکبیر اور ثنا

امام “اللہ اکبر” کہے گا۔ آپ دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھا کر ناف کے نیچے (یا سینے پر) باندھ لیں۔ اس کے بعد ثنا پڑھیں:

سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ ، وَتَعَالَى جَدُّكَ ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ ، وَلاَ إِلَهَ غَيْرُكَ

“سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ ، وَتَعَالَى جَدُّكَ ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ ، وَلاَ إِلَهَ غَيْرُكَ”

تیسرا قدم: دوسری تکبیر اور درودِ ابراہیمی

امام دوسری تکبیر “اللہ اکبر” کہے گا۔ اس بار ہاتھ نہیں اٹھانے (حنفی مسلک کے مطابق)۔ اس کے بعد وہی درودِ ابراہیمی پڑھیں جو نماز میں پڑھا جاتا ہے:

“اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ…”

چوتھا قدم: تیسری تکبیر اور میت کی دعا

امام تیسری تکبیر “اللہ اکبر” کہے گا۔ اب میت کے لیے مسنون دعا پڑھی جائے گی۔

بالغ مرد اور عورت کے لیے دعا:

اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا

“اَللَّھُمَّ اغْفِرْ لِحَیِّنَا وَمَیِّتِنَا وَشَاھِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِیْرِنَا وَکَبِیْرِنَا وَذَکَرِنَا وَاُنْثَانَا…”

پانچواں قدم: چوتھی تکبیر اور سلام

امام چوتھی تکبیر “اللہ اکبر” کہے گا۔ اس کے بعد بغیر کوئی دعا پڑھے دونوں طرف (پہلے دائیں، پھر بائیں) سلام پھیر دیں:

“السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ”

مختلف مسالک اور خواتین کے لیے جنازے کا طریقہ

اسلام کے مختلف فقہی مسالک اور خواتین کے حوالے سے چند ضروری احکام درج ذیل ہیں:

نمازِ جنازہ کا طریقہ (حنفی / سنی)

فقہ حنفی کے مطابق پہلی تکبیر کے علاوہ کسی بھی تکبیر پر ہاتھ نہیں اٹھائے جاتے (رفع یدین نہیں کیا جاتا)۔ صرف پہلی تکبیر پر ہاتھ اٹھا کر باندھے جاتے ہیں اور چوتھی تکبیر کے بعد کھڑے کھڑے سلام پھیرا جاتا ہے۔ دعوتِ اسلامی میں بھی اسی طریقے کی پیروی کی جاتی ہے۔

نمازِ جنازہ کا طریقہ (اہلِ حدیث)

اہلِ حدیث مسلک کے مطابق ہر تکبیر پر رفع یدین (ہاتھ اٹھانا) سنت سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پہلی تکبیر کے بعد سورۃ الفاتحہ کی تلاوت بھی کی جاتی ہے اور آخر میں ایک یا دونوں طرف سلام پھیرا جاتا ہے۔

نمازِ جنازہ کا طریقہ (شیعہ)

فقہ جعفریہ میں نمازِ جنازہ کا طریقہ اہل سنت سے مختلف ہے۔ اس میں کل 5 تکبیرات ہوتی ہیں۔ ہر تکبیر کے بعد مخصوص شہادتین، درود اور مسنون دعائیں پڑھی جاتی ہیں۔ اس میں رکوع، سجود اور آخر میں سلام نہیں ہوتا بلکہ 5ویں تکبیر پر نماز مکمل ہو جاتی ہے۔

خواتین کے لیے نمازِ جنازہ کا طریقہ

خواتین کے لیے نمازِ جنازہ میں عام نماز کی طرح پردہ اور حیا کی شرائط وہی ہیں۔ اگر خواتین گھر میں یا مخصوص جگہ پر جنازہ پڑھیں تو ان کا طریقہ بالکل مردوں جیسا ہی ہے، بس ہاتھ اٹھاتے وقت سینے یا کندھوں تک اٹھائیں گی اور ہاتھ سینے پر باندھیں گی۔

نا بالغ بچے اور بچی کی جنازے کی دعا

اگر میت نا بالغ لڑکا یا لڑکی ہو تو تیسری تکبیر کے بعد یہ دعائیں پڑھی جاتی ہیں:

  • نا بالغ لڑکے کے لیے دعا:

    اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ لَنَا فَرَطًا وَاجْعَلْهُ لَنَا أَجْرًا وَذُخْرًا وَاجْعَلْهُ لَنَا شَافِعًا وَمُشَفَّعًا

    “اَللَّھُمَّ اجْعَلْہُ لَنَا فَرَطًا وَّاجْعَلْہُ لَنَا اَجْرًا وَّذُخْرًا وَّاجْعَلْہُ لَنَا شَافِعًا وَّ مُشَفَّعًا”

  • نا بالغ لڑکی کے لیے دعا:

    اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا لَنَا فَرَطًا وَاجْعَلْهَا لَنَا أَجْرًا وَذُخْرًا وَاجْعَلْهَا لَنَا شَافِعَةً وَمُشَفَّعَةً

    “اَللَّھُمَّ اجْعَلْھَا لَنَا فَرَطًا وَّاجْعَلْھَا لَنَا اَجْرًا وَّذُخْرًا وَّاجْعَلْھَا لَنَا شَافِعَةً وَّ مُشَفَّعَةً”

اس حدیث اور عبادت کے فوائد اور اسباق

  1. آخرت کی یاد: جنازے میں شامل ہونے سے انسان کو اپنی موت اور آخرت کی یاد آتی ہے۔

  2. میت کے لیے نفع: اجتماعی دعا سے مرحوم کو قبر کے عذاب سے نجات اور درجات کی بلندی ملتی ہے۔

  3. عظیم ثواب: صرف نمازِ جنازہ پڑھنے پر ایک احد پہاڑ کے برابر ثواب حاصل ہوتا ہے۔

  4. بھائی چارے کا اظہار: مسلمانوں کے آپس میں ایک دوسرے کے غم میں شریک ہونے اور ہمدردی کا عملی اظہار ہوتا ہے۔

اختتامیہ (Conclusion)

نمازِ جنازہ ہمارے دینی اور اخلاقی فرائض میں سے ایک اہم ترین عمل ہے۔ صحیح نمازِ جنازہ کا طریقہ سیکھنا ہر مسلمان مرد اور عورت کے لیے ضروری ہے تاکہ ہم اپنے مرحومین کے لیے صحیح طریقے سے مغفرت کی دعا کر سکیں۔ آئے ہم یہ عزم کریں کہ ہم اس عبادت کے احکام اور دعائیں یاد کریں گے تاکہ ضرورت کے وقت باآسانی اور صحیح طریقے سے جنازے میں شامل ہو سکیں۔

Frequently Asked Questions (FAQs)

Q1: Kya Namaz-e-Janaza mein Wuzu zaroori hai?

Ans: Ji haan, Namaz-e-Janaza ke liye wuzu aur pakeezgi wahi shart hai jo aam namazon ke liye hoti hai. Bina wuzu janaza nahi hota.

Q2: Kya Namaz-e-Janaza mein Surah Fatiha parhna zaroori hai?

Ans: Ahle Hadees aur Shafai maslak mein Surah Fatiha parhna sunnat/zaroori hai, jabkeh Hanafi maslak mein pehli takbeer ke baad Sana parhi jati hai aur Surah Fatiha dua ki niyyat se parhi ja sakti hai.

Q3: Kya aurtein Namaz-e-Janaza parh sakti hain?

Ans: Ji haan, khawateen bhi shara’i purday ke sath Namaz-e-Janaza ada kar sakti hain, lekin un par janazay ke sath qabristan jana mana hai.

Q4: Agar kisi ki janaze mein takbeerain choot jayen toh kya kare?

Ans: Jis shakhs ki takbeer choot jaye, woh imam ke sath shamil ho jaye aur jab imam salam phere toh apni baqi takbeerain bina dua ke jaldi se keh kar salam pheer de.

Q5: Namaz-e-Janaza mein kitni takbeerain hoti hain?

Ans: Ahl-e-Sunnat (Hanafi, Ahle Hadees, Shafai, Hambali) ke nazdeek 4 takbeerain hoti hain, jabkeh Shia Fiqh mein 5 takbeerain hoti hain.

Q6: Kya Jootay pehan kar Namaz-e-Janaza parhi ja sakti hai?

Ans: Agar jootay aur niche ki zameen dono paak hon toh jootay pehan kar namaz parhi ja sakti hai, warna jootay utar kar un ke upar paon rakh kar khade hona chahiye.