Many people ask, “Jamabandi aur khasra girdawari kya hoti hai?” before they buy or sell land in Punjab. These are two very important land record papers kept by the patwari. One shows who owns the land.
The other shows who is using the land and what crop is grown on it. If you know the difference, you can stay safe from fraud and land disputes. This guide explains both in a simple way.
Online Fard Kaise Nikalein Punjab Land Records
جمع بندی کیا ہوتی ہے؟
جمع بندی زمین کا وہ سرکاری رجسٹر ہے جس میں کسی موضع (گاؤں) کی تمام زمینوں کے مالکوں کا ریکارڈ لکھا جاتا ہے۔ اسے آسان لفظوں میں “حقوقِ ملکیت کا رجسٹر” کہہ سکتے ہیں۔ پنجاب میں پٹواری یہ رجسٹر تیار کرتا ہے اور عام طور پر یہ ہر چار سال بعد نئے سرے سے بنتا ہے۔
جمع بندی میں عام طور پر یہ معلومات ہوتی ہیں:
- مالک کا نام اور والد کا نام
- کھیوٹ نمبر (مالکوں کے گروپ کا نمبر)
- کھتونی نمبر (ہر مالک کا اپنا حصہ)
- خسرہ نمبر (زمین کے ٹکڑے کا نمبر)
- رقبہ (کنال، مرلہ یا ایکڑ میں)
- زمین کی قسم، جیسے نہری، بارانی یا بنجر
- پچھلے انتقال (میوٹیشن) کا حوالہ
جب بھی زمین بکتی ہے یا وراثت میں تقسیم ہوتی ہے تو انتقال کے بعد یہ ریکارڈ بدلتا ہے۔ اسی لیے فرد (فردِ ملکیت) بھی جمع بندی کی بنیاد پر جاری ہوتی ہے۔
خسرہ گرداوری کیا ہوتی ہے؟
خسرہ گرداوری فصل اور قبضے کی سالانہ جانچ کا ریکارڈ ہے۔ “گرداوری” کا مطلب ہے گھوم پھر کر معائنہ کرنا۔ پٹواری ہر فصلی موسم میں کھیتوں میں جا کر دیکھتا ہے کہ کون سی زمین پر کون کاشت کر رہا ہے اور کون سی فصل لگی ہے۔ پنجاب میں سال میں دو بڑے موسم ہوتے ہیں: خریف (گرمیوں کی فصلیں، جیسے چاول اور کپاس) اور ربیع (سردیوں کی فصلیں، جیسے گندم)۔ اسی حساب سے گرداوری بھی سال میں دو بار درج ہوتی ہے۔
خسرہ گرداوری میں عام طور پر یہ باتیں ملتی ہیں:
- خسرہ نمبر اور رقبہ
- فصل کا نام
- زمین پر کاشت کرنے والے کا نام (مالک خود یا کوئی مزارع)
- زمین خالی ہے یا آباد ہے
- آبپاشی کا ذریعہ، جیسے نہر، ٹیوب ویل یا بارش
جمع بندی اور خسرہ گرداوری میں فرق
اکثر لوگ ان دونوں کو ایک ہی چیز سمجھ لیتے ہیں، جو غلط ہے۔ نیچے فرق دیکھیں:
| نکتہ | جمع بندی | خسرہ گرداوری |
|---|---|---|
| کام | ملکیت کا ریکارڈ | فصل اور قبضے کا ریکارڈ |
| کب بنتی ہے | تقریباً ہر چار سال بعد | ہر فصلی موسم میں (سال میں دو بار) |
| کیا بتاتی ہے | زمین کا مالک کون ہے | زمین پر کاشت کون کر رہا ہے |
| قانونی وزن | ملکیت کا بنیادی ثبوت | قبضے کا ثبوت، مگر اکیلی ملکیت ثابت نہیں کرتی |
| مرکزی نمبر | کھیوٹ، کھتونی، خسرہ | خسرہ نمبر |
آسان مثال لیں: زید کا نام جمع بندی میں مالک کے طور پر لکھا ہے، مگر اس نے زمین بکر کو ٹھیکے پر دی ہوئی ہے۔ تو جمع بندی میں مالک زید ہی رہے گا، اور خسرہ گرداوری میں کاشت کرنے والے کے طور پر بکر کا نام آ سکتا ہے۔
جمع بندی اور گرداوری ایک دوسرے سے کیسے جڑی ہیں؟
گرداوری اور جمع بندی ایک دوسرے کو سہارا دیتی ہیں۔ جمع بندی بنتے وقت گرداوری کے ریکارڈ کو بھی دیکھا جاتا ہے۔ اگر کسی زمین پر کئی سال ایک ہی شخص کا نام کاشتکار کے طور پر چلتا رہے تو یہ اس کے قبضے کی ایک نشانی بن جاتا ہے۔ اسی لیے زمین کے تنازعات میں عدالتیں اکثر دونوں ریکارڈ ساتھ دیکھتی ہیں۔
ایک اہم بات: گرداوری کو ملکیت کی دستاویز نہیں سمجھا جاتا۔ ملکیت کا اصل ثبوت رجسٹری، انتقال اور جمع بندی کا ریکارڈ ہوتا ہے۔ گرداوری صرف یہ بتاتی ہے کہ زمین پر کس کے پاس قبضہ دکھایا گیا ہے۔
زمین خریدنے سے پہلے یہ دونوں ریکارڈ کیوں دیکھیں؟
صرف فرد دیکھ کر سودا کر لینا کافی نہیں ہوتا۔ جمع بندی اور گرداوری دونوں دیکھنے سے آپ کئی خطرات پہچان سکتے ہیں:
- ملکیت اور قبضہ مختلف لوگوں کے پاس ہو: جمع بندی میں مالک کوئی اور ہو اور گرداوری میں قبضہ کسی تیسرے کے نام ہو۔ ایسی صورت میں خریدنے سے پہلے پوری تحقیق کریں۔
- رقبہ مختلف ہو: سودے والا رقبہ اور ریکارڈ والا رقبہ الگ ہو۔
- مشترکہ زمین: ایک ہی کھیوٹ میں کئی حصہ دار ہوں، اور سب کی رضامندی کے بغیر بیچنے کی کوشش ہو رہی ہو۔
- زمین کی قسم: زمین کاغذ پر زرعی ہو مگر بیچنے والا اسے رہائشی پلاٹ بتا رہا ہو۔
- پرانا ریکارڈ: تازہ انتقال ابھی جمع بندی میں شامل نہ ہوا ہو۔
جمع بندی اور گرداوری کی نقل کیسے حاصل کریں؟
جمع بندی کی بنیاد پر جاری ہونے والی فردِ ملکیت آپ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی (PLRA) کے آن لائن نظام سے لے سکتے ہیں۔ اس کے لیے شناختی کارڈ، موبائل نمبر (جس پر تصدیقی کوڈ آتا ہے)، اور زمین کا ضلع، تحصیل اور موضع تیار رکھیں۔
گرداوری اور جمع بندی کی نقل کے لیے آپ اپنے قریبی ارازی ریکارڈ سینٹر (ARC) بھی جا سکتے ہیں۔ شناختی کارڈ ساتھ لے جائیں، عملے کو بتائیں کہ آپ کو کون سا ریکارڈ چاہیے، فیس جمع کرائیں اور رسید اور کاپی لے لیں۔
آن لائن طریقے کی تفصیل کے لیے ہمارا مضمون “آن لائن فرد کیسے نکالیں” بھی پڑھ لیں۔
فیس کتنی لگتی ہے؟ (مالی سال 2026-27)
رپورٹس کے مطابق پی ایل آر اے نے مالی سال 2026-27 کے لیے لینڈ ریکارڈ کی نقل کی فیس مقرر کی ہے۔ اس میں فرد، انتقال اور گرداوری کی نقل شامل ہے:
| سروس | فیس |
|---|---|
| عام (ordinary) نقل | 900 روپے |
| فوری (express) نقل | 4,000 روپے |
فیس ہر سال جولائی میں بدل سکتی ہے۔ ادائیگی سے پہلے سرکاری ذریعے سے موجودہ فیس ضرور دیکھ لیں۔
گرداوری یا جمع بندی میں غلطی ہو تو کیا کریں؟
کبھی کبھی ریکارڈ میں نام، رقبہ یا خسرہ نمبر غلط لکھا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں گھبرائیں نہیں:
- سب سے پہلے اپنی رجسٹری، انتقال اور شناختی کارڈ کی کاپی تیار کریں
- متعلقہ پٹواری سے رابطہ کریں اور غلطی کی نشاندہی کریں
- ضرورت ہو تو تحصیل کے ریونیو افسر (نائب تحصیلدار یا تحصیلدار) کو تحریری درخواست دیں
- معاملہ حل نہ ہو تو کسی تجربہ کار وکیل سے مشورہ لیں
درخواست کی ایک کاپی اور رسید ہمیشہ اپنے پاس رکھیں۔
عام غلط فہمیاں
- “گرداوری میں نام ہے تو میں مالک ہوں”: نہیں۔ گرداوری صرف قبضے کا اندراج ہے، ملکیت کا ثبوت نہیں۔
- “فرد میں سب کچھ آ جاتا ہے”: فرد جمع بندی کی بنیاد پر بنتی ہے، مگر موجودہ قبضہ اور فصل کی معلومات گرداوری سے ملتی ہیں۔
- “ریکارڈ ایک بار دیکھ لیا، کافی ہے”: تازہ انتقال بعض اوقات ریکارڈ میں کچھ دن بعد نظر آتا ہے، اس لیے سودے کے دن کے قریب دوبارہ چیک کریں۔
- “ایجنٹ ٹھیک بتا رہا ہے”: صرف اپنی آنکھوں سے دیکھے ہوئے سرکاری ریکارڈ پر بھروسہ کریں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
Q1. What is jamabandi in simple words?
Jamabandi is the official register of land ownership kept for each village by the patwari. It shows the owner’s name, khewat and khatooni numbers, khasra number, and land area.
Q2. What is khasra girdawari?
Khasra girdawari is the crop and possession record. The patwari checks each field every crop season and writes who is farming it and what crop is grown.
Q3. What is the main difference between jamabandi and girdawari?
Jamabandi shows who owns the land. Girdawari shows who is using the land and what is grown on it.
Q4. Is girdawari proof of ownership?
No. Girdawari shows possession, not ownership. Ownership is proved by the registry, mutation (intiqal), and jamabandi record.
Q5. How often is a girdawari written?
It is written twice a year, once for the Kharif season and once for the Rabi season.
Q6. Where can I get copies of these records?
You can ask at your nearest Arazi Record Centre. For the ownership fard, you can also use the PLRA online system. Please check the current fee before you pay.
Conclusion
Now you know the answer to jamabandi aur khasra girdawari kya hoti hai. Jamabandi tells you who owns the land. Girdawari tells you who is using it and what crop is grown. Both papers are important, but only jamabandi, with the registry and mutation, proves ownership. Before you buy any land in Punjab, check both records, match the khasra number and area, and always get your own copy from the official office. A small check today can save you from a big loss tomorrow.

























